سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر پابندی کا آخری دن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاسٹ بولر محمد عامر پہلے ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آچکے ہیں تاہم انھیں سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ بحالی کے پروگرام پر عمل کرنا ہو گا جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کے لیے مرتب کیا ہے

سپاٹ فکسنگ میں ملوث سزا یافتہ تین پاکستانی کرکٹروں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر آئی سی سی کی جانب سے عائد پانچ سالہ پابندی منگل کے روز ختم ہو رہی ہے۔

پابندی کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ تینوں کرکٹر بدھ سے کرکٹ کھیلنے کے لیے آزاد ہوں گے۔

مجھے بھی کھیلنا ہے، اجازت دلوائی جائے

فاسٹ بولر محمد عامر پہلے ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آ چکے ہیں تاہم انھیں سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ بحالی کے پروگرام پر عمل کرنا ہو گا جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کے لیے مرتب کیا ہے۔

اس پروگرام میں نوجوان کرکٹروں کو لیکچر دینا، مختلف فلاحی اداروں اور سکولوں کے دورے کرنا اور ماہرینِ نفسیات سے ملاقات وغیرہ شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر سلمان بٹ اور محمد آصف کلب اور علاقائی سطح پر کھیل سکیں گے اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی واپسی مرحلہ وار ہو گی۔

واضح رہے کہ سنہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں کھیلے گئے لارڈز ٹیسٹ میں محمد آصف اور محمد عامر کپتان سلمان بٹ کی ایما پر مبینہ طور پر بک میکر سے وصول کی گئی رقم کے عوض نو بال کرنے کے مرتکب پائے گئے تھے۔

آئی سی سی نے تینوں کرکٹروں کو معطل کر دیا تھا جس کے بعد آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ٹریبیونل نے فروری 2011 میں تینوں کرکٹروں پر پانچ سالہ پابندی عائد کر دی تھی جن میں سلمان بٹ کے پانچ اور محمد آصف کے دو سال معطلی کے بھی شامل تھے۔

اسی سال نومبر میں لندن کی عدالت میں تینوں کرکٹروں پرمقدمہ چلایاگیا تھا اور سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جبکہ اس سکینڈل میں ملوث ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو دوسال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ محمد عامر نے فوری طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن محمد آصف اور سلمان بٹ نے دو سال قبل آئی سی سی کے فیصلے کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔

آئی سی سی نے گذشتہ سال اپنے انسدادِ بدعنوانی قوانین میں ترمیم کی جس کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں پابندی کا شکار کوئی بھی کرکٹر انسدادِ بدعنوانی یونٹ کے سربراہ کے صوابدیدی اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پابندی کی مدت ختم ہونے سے قبل کلب کرکٹ کھیل سکتا ہے۔

اس کا فائدہ محمد عامر کو ملا جنھوں نے اس سال پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو کرکٹ کھیلی اور پھر ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیا۔

اسی بارے میں