عماد وسیم کو سینٹرل کنٹریکٹ مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتوار کے روز 27 کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں عماد وسیم کا نام شامل نہیں تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نوجوان آل راؤنڈر عماد وسیم کو سینٹرل کنٹریکٹ دے دیا ہے جس میں انھیں ڈی کیٹگری دی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتوار کے روز 27 کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں حیران کن طور پر عماد وسیم کا نام شامل نہیں تھا۔

عماد وسیم کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ پر خاصی تنقید ہوئی تھی کیونکہ انھوں نے سری لنکا کے حالیہ دورے میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ناقابل شکست چوبیس رنز بناتے ہوئے آخری اوور میں چھکا لگاکر پاکستان کو ایک وکٹ کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عماد وسیم کا نام سینٹرل کنٹریکٹ کے کھلاڑیوں میں شامل نہ کیے جانے کو ٹائپنگ کی غلطی قرار دیا ہے اور چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ عماد وسیم کا نام ان کی تیار کردہ فہرست میں موجود تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیرمستقل مزاجی سامنے آتی رہی ہے۔

Image caption چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ عماد وسیم کا نام ان کی تیار کردہ فہرست میں موجود تھا

گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینئر بیٹسمین یونس خان کو بی کیٹگری میں شامل کیا تھا لیکن شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد اسے یونس خان کو اے کیٹگری دینی پڑی تھی۔

اس بار بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کا سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا تنقید کی زد میں ہے۔ بیٹسمین صہیب مقصود اور فاسٹ بولر سہیل خان دونوں ورلڈ کپ کے بعد سے فٹنس مسائل کی وجہ سے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے سہیل خان کو سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا ہے البتہ صہیب مقصود کو ڈی کیٹگری دی گئی ہے۔

اس سینٹرل کنٹریکٹ میں سب سے حیران کن نام عمرامین کا ہے جو گذشتہ اکتوبر کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلے اور صرف پاکستان اے کی نمائندگی کی ہے اس کے باوجود انھیں سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔

لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کو مسلسل دوسرے سال ڈی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جنھوں نے گذشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عمدہ بولنگ کی تھی اور پھر سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں ان کی نصف سنچری اور تین وکٹوں کی عمدہ کارکردگی پاکستان کی دس وکٹوں کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں