’یہ سلیکشن سینیئر کرکٹرز کے لیے پیغام ہے‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ہارون رشید کا کہنا ہے کہ زمبابوے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب دراصل سینیئر کھلاڑیوں کے لیے واضح پیغام ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ سینیئرز کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے نئے نوجوان کھلاڑی ان کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

زمبابوے اور انگلینڈ کی سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان

ہارون رشید نے کہا کہ ٹی20 کپ میں نئے کھلاڑیوں کی کارکردگی خوش آئند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سلیکشن کمیٹی کے نزدیک آئندہ سال بھارت میں ہونے والا آئی سی سی ورلڈ ٹی20 بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے لیے متوازن کامبی نیشن تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو فوری طور پر انٹرنیشنل کرکٹ میں داخل نہیں کیا جاسکتا اور تجربہ کار کھلاڑی جب تک ٹیم کو جتوا رہے ہیں ان کی موجودگی اہم ہے لیکن مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئے باصلاحیت کرکٹرز کو بھی موقع دیا جارہا ہے۔

ہارون رشید نے عمراکمل کے بارے میں کہا کہ اس ٹی20 کپ میں ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور وہ مستقل مزاجی سے رنز بھی نہیں کررہے ہیں لیکن وہ ایک ایسے بیٹسمین ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہارون رشید نے واضح کردیا کہ یونس خان ون ڈے ٹیم میں اسی وقت آسکتے ہیں جب وہ 11 میں جگہ بنا سکیں نا کہ 15 میں

انھیں ورلڈ ٹی20 سے قبل زیادہ سے زیادہ مواقع اسی لیے دیے جارہے ہیں کہ دیکھ لیا جائے وہ کہاں کھڑے ہیں؟

واضح رہے کہ عمراکمل نے ٹی20 کپ میں پانچ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنائی۔ بقیہ چار اننگز میں وہ محض 47 رنز بناسکے جبکہ سہیل تنویر اس ٹورنامنٹ کے پانچ میچز میں صرف تین وکٹیں حاصل کر پائے۔

ہارون رشید نے تسلیم کیا کہ سہیل تنویر کی کارکردگی بھی ٹی20 کپ میں اچھی نہیں رہی۔سری لنکا کے خلاف ایک میچ میں وہ مین آف دی میچ رہے تھے لیکن انھیں بھی اپنی کارکردگی میں مستقل مزاجی لانی ہوگی۔

نئے کھلاڑی عامر یامین کا سلیکشن بھی اسی سلسلےکی کڑی ہے انھیں بھی دیکھا جائےگا۔

ہارون رشید نے واضح کر دیا کہ یونس خان ون ڈے ٹیم میں اسی وقت آسکتے ہیں جب وہ 11 میں جگہ بنا سکیں نا کہ 15 میں۔

انھوں نے کہا کہ یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں ممکنہ واپسی کی باتیں ان قیاس آرائیوں کی وجہ سے ہورہی تھیں کہ اظہرعلی، اسد شفیق اور سرفراز احمد شاید زمبابوے کے خلاف سیریز نہ کھیل سکیں لیکن چونکہ یہ تینوں اب ٹیم کا حصہ ہیں لہذا اسی وننگ کامبی نیشن کو برقرار رکھا گیا ہے جس نے سری لنکا میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں