سیپ بلیٹر کا فیفا کی صدارت نہ چھوڑنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 79 سالہ بلیٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’کوئی بھی غلط یا غیر قانونی کام نہیں کیا‘

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ان کے خلاف شروع ہونے والی مجرمانہ تحقیقات کے باوجود وہ اپنے عہدے پر الگ نہیں ہوں گے۔

جمعے لو سیپ بلیٹر کے خلاف مجرمانہ بےضابطگیوں کے شک میں تفتیش کا آغاز کیا گیا۔

ان پر تنظیم کے مفاد کے خلاف ایک معاہدے پر دسخط کرنے اور یونین آف یورپیئن فٹبال ایسوسی ایشن ( یو ای ایف اے) کے سربراہ مائیکل پلیٹینی کو غلط طریقے سے رقم ادا کرنے کا الزام ہے۔

79 سالہ بلیٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’کوئی بھی غلط یا غیر قانونی کام نہیں کیا۔‘

اپنے وکلا کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں انھوں نہ کہا ہے کہ سنہ 2011 میں مائیکل پلیٹینی کو دی گئی 15 لاکھ پاؤنڈ کر رقم ’جائز معاوضہ تھا اور کچھ نہیں۔‘

بلیٹر اور پلیٹینی کو فیفا کی ضابطۂ اخلاق کی کمیٹی کی جانب سے بھی اس رقم کی ادائیگی کے بارے میں تحقیقات کا سامنا ہے جس کے بارے میں پلیٹینی کہتے ہیں کہ یہ انھیں سنہ 1999 سے 2002 کے دوران بلیٹر کے تکنیکی مشیر کے طور پر کام کرنے کے عوض دی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں فیفا کو کرپشن کے کئی الزامات کا سامنا رہا ہے اور فیفا کا کہنا ہے کہ وہ اس تفتیش کے معاملے میں تعاون کر رہی ہے۔

اسی بارے میں