فیفا کے ’بادشاہ‘ پر الزامات کی بوچھاڑ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیپ بلیٹر کئی یورپی زبان بول سکتے ہیں

سیپ بلیٹر کے بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن کے سترہ سال پر محیط دورِصدارت کے آخری چند ماہ میں بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی بھر مار ہو گئی جن کی وہ پر زور انداز میں تردید کرتے رہے۔

اناسی سالہ سیپ بلیٹر کے خلاف دو مختلف سطحوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سیپ بلیٹر کے خلاف سوئس حکام اور فیفا کی ضابطہ اخلاق سے متعلق کمیٹی ان کے خلاف مبینہ طور پر فٹ بال کی گورننگ باڈیز کے مفاد سے صرفِ نظر کرتے ہوئے معاہدے کرنے اور یورپ میں فٹ بال کی تنظیم یو ای ایف اے کے صدر مائیکل پلاٹینی کو ناجائز طور پر رقوم کی ادائیگی پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ مائیکل پلاٹینی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ان سب الزامات کے پیشِ نظر انھیں 90 دن کے لیے فیفا کی صدارت سے معطل کر دیا گیا ہے۔

سیپ بلیٹر کی مشکلات یہاں پر ختم نہیں ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ فیفا کی ضابطہ اخلاق کی کمیٹی ان کے خلاف سنہ 2005 میں نشریاتی حقوق کے بارے میں فیفا اور شمالی اور مرکزی امریکہ اور جزائر غرب الہند کی فٹ بال تنظیم کونکاکف کے سابق صدر جیک وارنر کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

مشکلات اور تنقید میں گھرے فیفا کے صدر نے اس سال کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ سال فروری تک اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے لیکن اب انھیں اس عہدے سے فوری طور پر علیحدہ ہونے کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنے سکول کے دنوں میں وہ میدان کے بادشاہ کے طور پر مشہور تھے

اس سال جون میں پانچویں مدت کے لیے منتخب ہونے کے فوری بعد ان کی طرف سے اپنے عہدے سے علیحدگی کا اعلان حیران کن تھا لیکن ساتھ ہی ان کا اصرار تھا کہ وہ تنظیم میں اصلاحات کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔

لیکن 27 مئی کو زیورچ کے ایک ہوٹل میں ایک تنظیمی اجلاس کے سلسلے میں شرکت کے لیے آمد پر فیفا کے کچھ اہلکاروں کی ڈرامائی گرفتاری نے ان کی انتخابی کامیابی کو کرکرا کر دیا۔

سیپ بلیٹر ایلپائن کے علاقے میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1940 کی دہائی میں پرائمری سکول کے دنوں میں وہ کھیل کے میدان کے بادشاہ کھلائے جاتے تھے اور وہ واحد طالب علم تھے جن کے پاس بین الاقوامی معیار کی فٹ بال ہوتی تھی۔

سکول سے فارغ ہونے کے بعد ان کا کریئر کئی لحاظ سے غیر معمولی رہا۔ انھوں نے سوئس فوج میں لازمی سروس پوری کی اور کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ اس دور میں ان کے جو روابط قائم ہوئے وہ باقی زندگی میں ان کے بہت کام آئے۔

سیپ بلیٹر نے گھڑیاں بنانے کی صنعت میں کام کیا اور اس کے بعد کھیلوں کے تنظیمی امور سے وابستہ ہوگئے اور سوئس آئس ہاکی فیڈریش سے منسلک رہے۔ سنہ 1975 میں فیفا کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلیٹر اور پلٹینی دونوں کو تحقیقات کا سامنا ہے

سوئس پارلیمنٹ کے رکن رونلڈ بوئچل کہتے ہیں کہ سنہ 1998 میں جب وہ پہلی مرتبہ فیفا کے صدر منتخب ہوئے تو ان کے ملک میں جشن منایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے کہ ان کا ہم وطن فیفا جیسی عالمی تنظیم کا صدر ہے۔

ان کے آبائی قصبے وسپ میں ان کے سکول کا نام تبدیل کر کے ان کے نام پر رکھ دیا گیا۔ سکول کے سپورٹس ہال میں ان کی قدمِ آدم تصویر آویزاں کر دی گئی۔

جب کبھی بھی وہ اپنے قصبے میں جاتے تو ان کا والہانہ استقبال کیا جاتا تھا۔

ایک مقامی جریدے کے سپورٹس ایڈیٹر ہانس پیٹر برچٹولڈ نے کہا کہ وہ بہت غیر پیچیدہ شخصیت تھے اور ان تک رسائی بہت آسان تھی۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ جب بات کرپشن اور بدعنوانی کی ہوتی ہے تو بلیٹر کے پرانے دوست اور آشنا بھی اندھے نہیں ہیں۔