پاکستان کا عظیم ترین بلےباز کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ getty images

پاکستان کا عظیم ترین بلےباز کون؟ اس سوال کے کئی جواب ممکن ہیں۔

مثلاً اگر وکٹ پر دلجمعی سے کھڑے رہنے کے سٹیمینا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان تو کیا، دنیا کا کوئی کھلاڑی حنیف محمد کے قریب نہیں پہنچتا۔

ریکارڈ اور واپسی کا جشن ساتھ ساتھ

یونس خان کا ریکارڈ توڑ چھکا

اگر بولروں کی دھجیاں بکھیر دینے اور میچ کا نقشہ لمحہ بھر میں بدل دینے کی صلاحیت کے پیمانے سے ناپا جائے تو ظہیر عباس کا کوئی مثل نہیں۔

جاوید میانداد جس طرح مخالف ٹیم کے اعصاب پر چھا جاتے تھے، اس میدان میں دنیا کے کم ہی کھلاڑی ان کے ہم پلہ ہوں گے۔

انضمام جیسا قدرتی ٹیلنٹ اور گیند کو قبل از وقت بھانپ لینے کی صلاحیت بھی کسی کسی کو عطا ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر بےنیازانہ، دل موہ لینے والے سٹائلش انداز کی رو سے مقابلہ ہو تو محمد یوسف کا کوئی ثانی نہیں۔

یونس خان کے پاس شاید یہ سب چیزیں نہیں، لیکن ان سب کے باوجود بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بلےباز ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ذرا ایک نظر درج ذیل ٹیبل پر ڈال لیں۔

عظیم کون؟
کھلاڑی میچ کل سکور اوسط سنچریاں
حنیف محمد 55 3915 43.98 12
ظہیر عباس 78 5062 44.79 12
جاوید میانداد 124 8832 52.57 23
انضمام الحق 119 8829 50.16 25
محمد یوسف 90 7530 52.29 24
یونس خان 102* 8835* 54.09 30

اس ٹیبل سے تو صاف ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا بلےباز اعداد و شمار کے کسی بھی پیمانے سے یونس کا پاسنگ نہیں ہے۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ کرکٹ میں عظمت کا جھگڑا اعداد و شمار کے ہتھیار سے نہیں چکایا جاتا۔ دوسری طرف یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ ٹیلنٹ، صلاحیت، سٹائل یہ سب معروضی باتیں ہیں جو ہر شخص کے نزدیک مختلف ہوتی ہیں۔

البتہ ہمارے خیال میں ایک پیمانہ ایسا ہے جس کی مدد سے کسی بھی ٹیسٹ بیٹسمین کی عظمت کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور وہ ہے کڑے اور ناموافق حالات میں وکٹ پر ڈٹے رہنا۔

اس بات سے تو سبھی اتفاق کریں گے کہ بلےباز کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے مشکل مرحلہ چوتھی اننگز کھیلنے کا ہوتا ہے۔ اس وقت نہ صرف وکٹ ٹوٹ پھوٹ چکی ہوتی ہے بلکہ میچ جتوانے یا شکست سے بچانے کا تمام تر انحصار اسی اننگز پر ہوتا ہے۔

اس لحاظ سے یونس کے کریئر پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ یونس خان کی چوتھی اننگز میں اوسط 60.59 ہے جو پاکستان میں تو سرِفہرست ہے ہی، کرکٹ کی تاریخ میں بھی چوتھے نمبر پر ہے (کم از کم سکور 2000)۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے مقابلے پر اگر ہم دوسرے بڑے پاکستانی بلےبازوں کی چوتھی اننگز میں اوسط دیکھیں تو وہ کچھ یوں ہو گی:

چوتھی اننگز کی اوسط
حنیف محمد 43.00
ظہیر عباس 22.53
جاوید میانداد 54.40
انضمام الحق 39.40
محمد یوسف 43.00

چوتھی اننگز میں یونس خان کی کامیابی کی ایک بھرپور مثال اسی سال سری لنکا میں دیکھنے میں آئی جب انھوں نے 171 ناٹ آؤٹ بنا کر 382 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف عبور کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

یہ کسی بھی پاکستانی بلےباز کا چوتھی اننگز میں سب سے بڑا سکور بھی ہے۔

یہی نہیں بلکہ یونس خان کرکٹ کی تاریخ کے پہلے بلےباز ہیں جنھوں نے مسلسل تین چوتھی اننگز میں سنچریاں سکور کی ہیں۔

اس کے علاوہ یونس کے پاس ایک اور منفرد اعزاز بھی ہے۔ انھوں نے پاکستان کی طرف سے کھیلتے ہوئے ہر ٹیسٹ ٹیم کے خلاف سنچریاں سکور کی ہیں۔ انضمام اور محمد یوسف نے نو دیگر ٹیموں کے خلاف سنچریاں بنائیں لیکن یہ دونوں جنوبی افریقہ کے خلاف تہرے ہندسے کی کوئی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

اور ہاں، اگر مسکراہٹ کی کشادگی اور چمک ناپی جائے تو اس میدان میں بھی یونس خان سب سے آگے ہوں گے۔

اسی بارے میں