’یونس میں رنز کی بھوک اب بھی پہلے جیسی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انضمام الحق جب کپتان تھے تو یونس خان ان کے نائب تھے لیکن انضمام الحق کو کبھی بھی ان کے رویے سے کوئی شکایت نہیں ہوئی

یونس خان نے ابوظہبی ٹیسٹ کے پہلے روز جاوید میانداد اور انضمام الحق کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔

پاکستان کے سابق عظیم کھلاڑی جاوید میانداد اور انضمام الحق یونس خان کی اس کامیابی پر انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

جاوید میانداد کو اس بات کا قطعاً افسوس نہیں کہ وہ اب ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین نہیں رہے بلکہ انھیں یقین ہے کہ یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار سے بھی زیادہ رنز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا: ’ریکارڈز بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں اور میرا ریکارڈ درحقیقت کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ اپنے ملک کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں اور کتنی ایمانداری اور محنت سے کھیل رہے ہیں۔‘

جاوید میانداد کے خیال میں یونس خان نے اپنی ساری کرکٹ ایک مقصد کے تحت کھیلی ہے اور اتار چڑھاؤ میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔

جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ جب کوئی کھلاڑی اتنا بڑا سنگِ میل عبور کرتا ہے تو یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے۔

انھوں نے یونس خان کو مشورہ دیا کہ وہ رنز کرتے جائیں کوئی انھیں ٹیم سے باہر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جاوید میانداد کے خیال میں یونس خان نے اپنی ساری کرکٹ ایک مقصد کے تحت کھیلی ہے

’یونس خان کو ذہن میں صرف ایک بات رکھنی چاہیے کہ انھیں رنز کرنے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بیٹ ہے جو پرفارمنس سے ناقدین کو خاموش کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے، وہ جب تک رنز کرتے رہیں گے وہ دس ہزار ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ رنز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

’یہ یونس خان پر منحصر ہے کہ وہ جب تک کھیلنا چاہتے ہیں کھیل سکتے ہیں کوئی انھیں باہر نہیں کر سکتا۔‘

دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق جب بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے تھے تو انھوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں اور رنز بنانے والے پاکستانی بیٹسمین بن جائیں گے۔

لیکن آج جب یونس خان نے یہ سنگِ میل عبور کر لیا ہے تو اب یہ انضمام الحق کے لیے حیران کن نہیں ہے۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ جب وہ کرکٹ کھیل رہے تھےتو اس وقت جاویدمیانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے وہ اور محمد یوسف ہی دوڑ میں شامل تھے۔

انضمام الحق کے خیال میں یونس خان قدرتی کرکٹر نہیں لیکن انھوں نے اپنی محنت اور دیانت داری سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

’میں اکثر یہ کہتا ہوں یونس خان قدرتی کھلاڑی نہیں ہیں وہ اپنی سخت محنت سے بنے ہوئے کھلاڑی ہیں اور انھوں نے اتنے طویل عرصے تک اپنے شوق اپنے جنون کو برقرار رکھتے ہوئے کرکٹ کھیلی ہے خاص طور پر حالیہ دو تین برسوں کے دوران ان کی کارکردگی میں بہت نکھار آیا ہے اور ان کی بیٹنگ انتہائی شاندار رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انضمام الحق کے خیال میں یونس خان قدرتی کرکٹر نہیں لیکن انھوں نے اپنی محنت اور دیانت داری سے یہ مقام حاصل کیا ہے

انضمام کے مطابق ’ کرکٹر کا جوش و خروش 16، 15 سال کھیلنے کے بعد کم ہونے لگتا ہے لیکن یونس میں رنز کی بھوک اب بھی پہلے جیسی ہے اور وہ ایک کے بعد ایک بڑی اننگز کھیل رہے ہیں۔‘

انضمام الحق جب کپتان تھے تو یونس خان ان کے نائب تھے لیکن انضمام الحق کو کبھی بھی ان کے رویے سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔

’ٹیم میں ہر کھلاڑی ایک ہی مزاج کا نہیں ہوتا۔ کپتان کی حیثیت سے میں نے شعیب اختر، شاہد آفریدی، یونس خان اور محمد یوسف سمیت ہر کرکٹر کو مختلف مزاج کا پایا۔

’یہ کپتان کا کام ہے کہ وہ ہر کھلاڑی کی صلاحیت سے اس کے مزاج کے مطابق فائدہ اٹھائے۔ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ مجھے یونس خان کو ہینڈل کرنے میں مشکل پیش آئی ہو۔ کپتان اور بیٹنگ پارٹنر کی حیثیت سےمیرے ان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے۔‘

اسی بارے میں