’بیٹنگ کے دوران عادل رشید کو سیٹ نہیں ہونے دیا‘

اسد شفیق تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میں نے عادل رشید کے لیے حکمت عملی وضع کر رکھی تھی: اسد شفیق

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق خود کو ٹیسٹ میچوں میں قابل اعتماد بیٹسمین ثابت کر چکے ہیں۔

لیکن وہ ون ڈے میچوں میں ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جس کا انھیں بھی احساس ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک فارمیٹ میں ناکامی کا اثر دوسرے فارمیٹ پر بھی پڑتا ہے۔

بیٹسمینوں نے کام کر دکھایا اب بولروں کی باری

’اگر آپ سے ایک فارمیٹ میں رنز نہ ہو رہے ہوں تو جب آپ دوسرے فارمیٹ میں آتے ہیں تو کسی حد تک اس کا اثر ہوتا ہے لیکن ہر فارمیٹ کا اپنا انداز ہے اپنے تقاضے ہیں۔میں کوشش کرتا ہوں کہ پچھلی ناکامی کو ذہن پر حاوی نہ ہونے دوں اور نئی اننگز پر توجہ دیتا ہوں۔‘

اسد شفیق کا کہنا ہے کہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے عادل رشید کے لیے انھوں نے حکمت عملی وضع کر رکھی تھی۔

’یہی سوچا تھا کہ چونکہ عادل رشید کا پہلا ٹیسٹ ہے اس لیے ان پر بھی دباؤ ہوگا لہٰذا انہیں سیٹ نہیں ہونے دینا کیونکہ اگر وہ سیٹ ہوگئے تو ہمارے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ عادل رشید نے پاکستان کی پہلی اننگز میں کوئی وکٹ حاصل کیے بغیر 163 رنز دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عادل رشید نے پاکستان کی پہلی اننگز میں کوئی وکٹ حاصل کیے بغیر 163 رنز دیے

اسد شفیق کا کہنا ہے کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ نے ان کے لیے کام آسان کر دیا۔

’جب ٹاپ آرڈر بیٹسمین بڑا سکور کر کے اچھی بنیاد فراہم کر دیں تو آنے والے بیٹسمینوں کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی کہ توجہ سے کھیلوں اور میں اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ شعیب ملک کے ساتھ بیٹنگ میں مزا آیا انھوں نے میری بڑی مدد کی اور وکٹ کے رویے کے بارے میں کارآمد باتیں بتائیں جو میرے کام آئیں۔‘

اسد شفیق دس رنز پر ای این بیل کے ہاتھوں ڈراپ کیچ کو کھیل کا حصہ سمجھتے ہیں۔

’کھیل میں یہ ہوتا ہی ہے کہ کبھی آپ سے کیچ گرجاتا ہے کبھی آپ بہت ہی زبردست کیچ کر لیتے ہیں۔ میں نے اس ڈراپ کیچ کو بھلا کر دوبارہ اپنی اننگز پر توجہ مرکوز کی جو بیٹنگ کا بنیادی اصول ہے۔‘

اسی بارے میں