بیٹسمینوں نے کام کر دکھایا اب بولروں کی باری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شعیب ملک پہلے دن شان مسعود کے آؤٹ ہونے پر تیسرے ہی اوور میں بیٹنگ کے لیے آئے تھے انھوں نے تقریباً دس گھنٹے بیٹنگ کی جس سے ان کی ثابت قدمی اور بھرپور اعتماد کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے

شعیب ملک نے ابوظہبی ٹیسٹ سے صرف ایک دن پہلے ٹیسٹ ٹیم میں اپنی موجودہ واپسی کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اب وہ باہر ہوئے تو اس کے بعد کچھ بھی نہیں لیکن ان کی شاندار ڈبل سنچری سے یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ وہ ملنے والے اس موقعے کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے کتنے پرعزم تھے۔

ابوظہبی ٹیسٹ کے پہلے دن یونس خان اور شعیب ملک ریکارڈ اور واپسی کا جشن منا چکے تھے، لہٰذا دوسرے دن صرف اسی بات کی اہمیت تھی کہ پاکستانی بیٹسمین اننگز کو مزید کتنا طول دیں گے۔

سنہ 2012 میں اسی میدان میں انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم نے پہلے دن کا اختتام 256 رنز سات کھلاڑی آؤٹ پر کیا تھا لیکن اگلے دن صرف ایک رن کے اضافے پر اس کی تین وکٹیں گر گئی تھیں۔

تاہم اس بار شعیب ملک اور اسد شفیق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے سکور بورڈ پر آٹھ وکٹوں پر 523 رنز سجا کر کپتان مصباح الحق کو اننگز ڈیکلیئرکرنے کا موقع فراہم کر دیا۔

شعیب ملک نے اپنے ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلتے ہوئے 245 رنز سکور کیے جس میں 24 چوکے اور چار چھکے شامل تھے ۔

اس سے قبل ٹیسٹ میں ان کا بہترین انفرادی سکور 148 رنز ناٹ آؤٹ سنہ 2006 میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں تھا جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا سابقہ بہترین انفرادی سکور 200 رنز تھا۔

شعیب ملک پہلے دن شان مسعود کے آؤٹ ہونے پر تیسرے ہی اوور میں بیٹنگ کے لیے آئے تھے انھوں نے تقریباً دس گھنٹے بیٹنگ کی جس سے ان کی ثابت قدمی اور بھرپور اعتماد کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

اسد شفیق نے ایک روزہ کرکٹ کی ناکامیوں کو پرے دھکیلتے ہوئے پوری توجہ اس اننگز پر مرکوز رکھی جس کا نتیجہ ان کی آٹھویں سنچری کی صورت میں سامنے تھا۔

ان دونوں نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 248 رنز کا اضافہ کیا جو پاکستان اور انگلینڈ کے ٹیسٹ میچوں میں پانچویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت بھی ہے۔

اس سے قبل سنہ 2010 میں پال کولنگ ووڈ اور اوئن مورگن نے 219 رنز بنائے تھے۔

انگلینڈ کو دوسرے دن کے کھیل میں پہلی کامیابی کے لیے 57 اوورز کا انتظار کرنا پڑا لیکن اس کے بعد تین وکٹیں اسے جلد مل گئیں۔ چائے کے وقفے کے بعد چار وکٹیں چھ اووروں میں گریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میچ میں فتح کے لیے ضروری ہے کہ اب پاکستانی باؤلز بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں

مارک ووڈ نے ایل بی ڈبلیو کے ذریعے اسد شفیق کی 107 رنز کی اہم اننگز کا خاتمہ کیا۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد صرف دو رنز پر بین سٹوکس کی گیند پر بیل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

بین سٹوکس نے بیل ہی کے ذریعے شعیب ملک کی اننگز کو بھی مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔

ذوالفقار بابر بین سٹوکس کی اننگز میں چوتھی وکٹ بنے ۔

انگلینڈ کے دونوں سپنر معین علی اور عادل رشید آج بھی وکٹ کے لیے ترستے ہی رہے۔

معین علی کے 30 اووروں میں 121 رنز بنے جبکہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے عادل رشید کے لیے یہ اننگز کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھی جن کے 34 اووروں میں 163 رنز بنے جو کسی بھی انگلش بولر کی اپنے اولین ٹیسٹ میں دوسری خراب ترین کارکردگی ہے۔

اس سے قبل ڈیون میلکم نے اپنے اولین ٹیسٹ میں 166 رنز دیے تھے۔

کپتان الیسٹر کک اپنے نئے اوپننگ پارٹنر معین علی کے ساتھ 21 اوورز گزار گئے۔

کھیل کے اختتام پر کک 39 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے جبکہ پھونک پھونک کر قدم بڑھانے والے معین علی 15 رنز پر کھیل رہے تھے۔

اسی بارے میں