کک کی سنچری نے انگلینڈ کا حوصلہ بڑھا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کک نے اپنی اننگز کے دوران کیلنڈر سال میں ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لیے ہیں

پاکستان کے بھاری سکور کا مقابلہ کرنے کے لیے انگلینڈ کو ایک بڑی اننگز کی ضرورت تھی جو کپتان الیسٹر کک کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کی 28ویں ٹیسٹ سنچری کے سبب انگلینڈ نے ابوظہبی ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل ختم ہونے پر تین وکٹوں پر 290 رنز بنائے تھے۔ کک 15 چوکوں کی مدد سے 168 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

کُک کی سنچری، انگلش بلے بازوں کی پراعتماد بیٹنگ

ابوظہبی کے میدان پر بلے بازوں کا راج: تصاویر

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015 پر ضمیمہ

کک نے اپنی اننگز کے دوران کیلنڈر سال میں ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لیے اور ہر اس خطے میں سنچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا جہاں وہ کھیلے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں یہ ان کی پہلی سنچری ہے۔

سپنروں کو اعتماد سے کھیلنے کے لیے مشہور الیسٹر کک نے دوسرے دن ہی اپنے عزائم ظاہر کر دیے تھے۔

تیسرے دن انھوں نے اسی اعتماد کو مزید بڑھاتے ہوئے بیٹنگ کی اور اپنے نئے اوپننگ پارٹنر معین علی کے ساتھ سنچری شراکت سے انگلینڈ کے لیے ایک بڑے سکور کی بنیاد رکھ دی۔

پاکستان کو اپنے اسلحہ خانے کے سب سے موثر ہتھیار یاسر شاہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔

معین علی اینڈریو سٹراؤس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے الیسٹرکک کے ساتویں اوپننگ پارٹنر بنے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ترقی انھیں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے بعد ملی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کو پہلی کامیابی عمران خان نے معین علی کو آؤٹ کر کے دلائی

معین علی نے اگرچہ رنز کے اعتبار سے کوئی بڑی اننگز نہیں کھیلی لیکن 131 گیندوں پر 35 رنز بناتے ہوئے انھوں نے اپنے کپتان کا پورا پورا ساتھ نبھایا۔

116رنز کی یہ شراکت عمران خان کی ایک عمدہ گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کی مستعدی کے نتیجے میں ختم ہوئی۔

ای این بیل ان دنوں اپنے آپ سے نبرد آزما ہیں۔ ایشز سیریز کی نو اننگز میں صرف تین نصف سنچریاں بنانے کے بعد ان کی ٹیم میں جگہ مستحکم نہیں تھی۔

ستم بالائے ستم پاکستان کی پہلی اننگز میں انھوں نے دو کیچ بھی ڈراپ کیے، تاہم اپنی اننگز میں وہ یقیناً شان مسعود کے شکرگزار ہوں گے جنھوں نے ایک رن پر ذوالفقار بابر کی گیند پر ان کا کیچ گرا دیا۔

کک کو بھی بچ نکلنے کا ایک موقع ملا جب 147 کے سکور پر ذوالفقار بابر کی گیند پر وہاب ریاض کی جگہ فیلڈنگ کرنے والے فواد عالم کیچ لینے میں ناکام رہے۔

کھیل کے آخری لمحات میں وہاب ریاض نے ای این بیل کی 63 رنز کی اننگز کو گلی پوزیشن میں محمد حفیظ کے کیچ کے ذریعے ختم کیا اور پھر نائٹ واچ مین مارک ووڈ کو بھی چار رنز پر بولڈ کر دیا جس کے بعد 233 رنز کا خسارہ پورا کرنے کے لیے انگلینڈ کی امیدیں اب کک اور جو روٹ سے وابستہ ہیں۔

اسی بارے میں