’یاسر شاہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شائقین کے نقطۂ نظر سے یہ ٹیسٹ میچ کے لیے آئیڈیل وکٹ نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس کا سبب گرم موسم ہو: مشتاق احمد

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ٹیم نے لیگ سپنر یاسر شاہ کی کمی شدت سے محسوس کی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ یاسر دوسرا ٹیسٹ کھیلیں گے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یاسر کی عدم موجودگی سے ذوالفقار بابر کی کارکردگی پر بھی فرق پڑا ہے۔

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ

پہلے ٹیسٹ سے قبل یاسر شاہ زخمی

انھوں نے کہا ’یاسر شاہ نے گذشتہ تین ٹیسٹ سیریز میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ ان فٹ ہوگئے۔ ان کی ذوالفقار بابر کے ساتھ بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی رہی ہے لیکن ان کے نہ ہونے سے ذوالفقار بابر پر بھی اثر پڑا ہے۔‘

مشتاق احمد کو ابوظہبی میں پہلے ٹیسٹ میچ کی وکٹ سے سخت حیرانی ہوئی ہے۔

’ہم یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ یہ وکٹ اتنی زیادہ سلو ہوگی۔ گذشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف جو وکٹ تھی یہ اس سے مختلف ہے جس پر گیند تیز نہیں جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شائقین کے نقطۂ نظر سے یہ ٹیسٹ میچ کے لیے آئیڈیل وکٹ نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس کا سبب گرم موسم ہو۔

اس ٹیسٹ میں اب تک دونوں ٹیموں کے سپنرز کو ایک بھی وکٹ نہیں ملی ہے اور مشتاق احمد اس کا ذمہ دار بھی وکٹ ہی کو قرار دیتے ہیں۔

’بیٹسمینوں کو بہت زیادہ وقت مل جاتا ہے کہ وہ بیک فٹ پر اچھی سے اچھی گیند کو بھی اطمینان سے کھیل لیں۔ اس کے علاوہ دو کیچ بھی ڈراپ ہوئے ہیں۔ اگر وہ کیچ پکڑ لیے جاتے تو پاکستانی ٹیم اچھی پوزیشن میں آ جاتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر کی کمر میں پہلے ٹیسٹ کے قبل تربیت کے دوران تکلیف ہوئی تھی

یاسر شاہ کے نہ ہونے کے بعد کیا پاکستانی ٹیم کو یقین تھا کہ وہ تین تیز بولرز اور ایک سپنر کے ذریعے انگلینڈ کی 20 وکٹیں حاصل کر لے گی؟

اس سوال پر کہ مشتاق احمد نے کہا ’بائیں ہاتھ کے بیٹسمینوں کے لیے شعیب ملک کی بولنگ اہم ہو سکتی تھی لیکن لمبی اننگز کھیلنے کی وجہ سے وہ ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوگئے تھے اور انھیں ڈرپ لگانی پڑی۔‘

انگلش سپن اٹیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ معین علی اور عادل رشید کا موازنہ گریم سوان اور مونٹی پنیسر جیسے تجربہ کار سپنرز سے نہیں کیا جاسکتا۔

’سوان اور مونٹی پنیسر منجھے ہوئے سپنرز تھے جنھیں اپنی ذمہ داریوں کا علم تھا اور وہ دیے گئے منصوبے کے مطابق بولنگ کرتے تھے۔ معین علی بیٹسمین ہیں اور سپنر کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ عادل رشید کا یہ پہلا ٹیسٹ ہے لہذا ان پر اس کا بھی دباؤ تھا۔‘

مشتاق احمد کو انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کی شاندار بیٹنگ نے بہت متاثر کیا ہے۔

’ کک نے بہت ہی زبردست بیٹنگ کی اور دوسرے بیٹسمینوں پر سے دباؤ کم کیا۔ ان کا ایشیا میں بیٹنگ کا ریکارڈ بہت ہی متاثر کن ہے اور انھوں نے اس اننگز میں نئی گیند کا اثر زائل کر دیا۔‘

اسی بارے میں