انڈین پریمیئر لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کی جائیں گی

Image caption آئی پی ایل ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سب سے مہنگی لیگ ہے

انڈین پریمیئر لیگ کرکٹ مقابلوں کے منتظمین نے لیگ میں دو نئی ٹیموں کے لیے بولی لگانے کی دعوت دی ہے۔

رواں برس جولائی میں سپریم کورٹ نے انڈین پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کے معاملے میں لیگ میں شامل دو ٹیموں چنّئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز پر دو سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔

پابندی کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مہنگی ترین آئی پی ایل لیگ میں چھ ٹیمیں رہ گئی تھیں اور اب اس میں دو نئی ٹیموں کو شامل کیا جا رہا ہے۔

چنّئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز پر دو سال کی پابندی

آئی پی ایل فکسنگ میں بڑے ناموں کا انکشاف

دوسری جانب آئی پی ایل کے نئے سپانسر کا اعلان بھی کیا گیا ہے اور آئندہ سیزن میں پیپسی کی جگہ چین کی موبائل فون بنانے والی کمپنی ویوو نئی سپانسر ہو گی۔

آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات 2013 کے چھٹے ایڈیشن میں اس وقت سامنے آئے تھے جب اس ٹورنامنٹ میں شریک ٹیم راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں سری سانت، انکت چوہان اور اجیت چڈيلا کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

ان کے ساتھ 16 سٹے بازوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف دفعہ 420 اور 120 بی کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بعدازاں اسی معاملے میں ممبئی پولیس نے گروناتھ ميّپن اور اداکار ودو دارا سنگھ کو بھی گرفتار کیا تھا جبکہ دہلی پولیس نے راجستھان رائلز کے مالک راج کندرا کا نام بھی اسی کیس میں لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں راج کندرا اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سری نواسن کے داماد اور چنّئی سپر کنگز کے عہدیدار گروناتھ میّپن پر بھی تاحیات پابندی لگائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں بی سی سی آئی نے راجستھان رائلز کے فاسٹ بالر سری سانت اور ان کے ساتھی کھلاڑی انکت چوہان پر ستمبر 2013 میں تاحیات پابندی لگا دی تھی۔ جولائی میں دہلی کی ایک عدالت نے ان دونوں کرکٹرز کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔

اسی بارے میں