فیفا کے نئے صدر کا انتخاب فروری میں ہو گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فیفا کے صدر پر بدعنوانی کے الزامات ہیں

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آئندہ برس 12 فروری کو کانگریس کے خصوصی اجلاس میں تنظیم کے نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔

اس انتخاب سے یہ طے ہو گا کہ تنظیم کے موجودہ صدر سپ بلیٹر کی جگہ جو پہلی مرتبہ 1998 میں منتخب ہوئے تھے کون لے گا۔

اناسی سالہ بلیٹر اور تنظیم کے نائب صدر مائیکل پلاٹینی کو بدعنوانی کے الزامات پر 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔

سیپ بلیٹر اپنی معطلی کے خلاف اپیل کریں گے

فیفا کے ’بادشاہ‘ پر الزامات کی بوچھاڑ

یہ دونوں اشخاص اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تریدد کرتے ہیں۔

پلاٹینی صدر کے عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس طرح پرنس علی بن الحسین بھی انتخاب لڑنے کے خواہش مند ہیں۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے پلاٹینی جو یورپ میں فٹ بال کی تنظیم یوائیفا کے بھی صدر ہیں انھوں نے اپنی کاغذات نامزدگی اس ماہ کے شروع میں جمع کرائے تھے۔ فیفا کا کہنا ہے جب تک ان پر پابندی عائد ہے ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی وہ اپنی انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔

فیفا کا مزید کہنا ہے کہ فیفا کی انتخابی کمیٹی کہ انتخابات سے قبل اگر ان پر سے پابندی اٹھا لی جاتی ہے تو انھیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

بحرین کے شیخ سلمان بن ابراھیم الخلیفہ بھی متوقع طور پر فیفا کے صدر کا الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ ٹرینڈاڈ اور ٹوبوگو کے سابق کھلاڑی ڈیوی نکہید نے بھی انتخابات میں حصہ لینے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

اس طرح لندن کے کلب ٹوٹنہم کے سابق دفاعی کھلاڑی رامن ویگا بھی اس قسم کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے سیپ بلیٹر پر الزام ہے کہ انھوں نے ساڑھے 13 لاکھ پاؤنڈ پلاٹینی کو سنہ 2011 میں دیئے تھے۔ علاوہ ازیں ان پر فیفا کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹھیکے دینے کے بھی الزامات ہیں۔

مائیکل پلاٹینی اپنے خلاف لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنے اور سنہ 2016 میں تنظیم کے انتخابات لڑنے کی بھرپور کوشش میں ہیں۔ لیکن یورپ میں فٹ بال کی تنظیم نے ان کی حمایت کرنا روک دیا ہے اور یورپ کے ملک بھی ان کے طویل عرصے تک نائب صدر کے عہدے پر رہنے سے کچھ خوش نہیں ہیں۔

یورپ میں فب بال کی تنظیم یوائیفا کسی متفقہ امیدوار کی تلاش میں ہے جسے میدان میں اتارا جا سکے۔ ان میں دو امیدواروں کے نام لیے جا رہے ہیں جن میں رامون ویگا اور ہالینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر مائیکل ون پراگ شامل ہیں۔

تاہم یوائیفا ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ یورپ کے باہر سے کسی امیدوار کی حمایت کرے۔ شیخ سلمان نے اس سال کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں مائیکل پلاٹینی کی حمایت کی تھی ہو سکتا ہے کہ اب ان کا احسان اتارا جائے۔

اسی بارے میں