’بھارتی کرکٹ بورڈ کا رویہ مایوس کن ہے، سیریز کا امکان نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی میں بی سی سی آئی کے دفتر پر حملے کے بعد شہر یار خان پیر کی دیر رات دہلی آگئے تھے جہاں وہ حکام سے میٹنگز کر رہے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا رویہ مایوس کن ہے اور پاکستان بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کے بارے میں امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

دہلی میں بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ انھیں بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے رویے پر افسوس ہوا ہے۔

شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد علیم ڈار سیریز سے الگ

کیا اب شیو سینا امپائروں کا تعین کرے گی؟

کرکٹ اور مسلمان اب محفوظ نہیں رہے

شہریار خان بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ روابط بحال کرنے کے سلسلے میں بھارت میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی کنٹرول بورڈ خود دباؤ کا شکار ہے۔

شہریار خان نے کہا کہ ’بورڈ کے حکام کو خود مجھ سے ملاقات کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تھی لیکن بی سی سی آئی کے حکام نے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ بھارتی بورڈ کے حکام سے ملاقاتوں کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے وہ واپس پاکستان جا رہے ہیں۔

اس سے قبل انڈین پریمیئر لیگ کے چیئرمین راجیو شکلا نے شہریار خان سے ملاقات کی جس کے بعد راجیو شکلا نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ سیریز کے بارے میں جلدبازی میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا ٹھیک نہیں ہو گا۔

بھارتی ذرائی ابلاغ میں نشر کی جانے والی خبروں کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ دسمبر میں ہونے والی مجوزہ سیریز کے ہونے امکان اب تقریباً معدوم ہو چکے ہیں۔

شہریار خان کو پیر کو ممبئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ ششانک منوہر سے ملاقات کرنی تھی، تاہم بورڈ کے دفتر پر ہندو قوم پرست انتہا پسند جماعت شیو سینا کے کارکنوں کے دھاوا بولنے کی وجہ سے یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد شہریار خان پیر کو رات گئے دہلی آگئے تھے جہاں منگل کی صبح وہ آئی پی ایل کے چیئرمین راجیو شکلا سے ملے۔

ملاقات کے بعد شکلا نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ملاقات غیر رسمی تھی اور کرکٹ روابط کے سلسلے میں فیصلہ بھارتی بورڈ کو کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption راجیو شکلا نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ملاقات غیر رسمی طور کی تھی اور کرکٹ روابط کے سلسلے میں فیصلہ بھارتی بورڈ کو کرنا ہے

صحافیوں نے جب ان سے پاکستان اور بھارت کی کرکٹ سیریز کے امکانات کی معدومی کی خبروں پر تبصرے کے لیے کہا تو وہ بولے کہ ’جلد بازی میں کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مستقبل میں ہونے والی سرگرمیوں کا انتظار کریں۔ میں تو یہی کہہ سکتا ہو ں کہ بات چیت کا عمل ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔‘

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں کوئی بھی اعلان بورڈ کے صدور کی جانب سے بات چیت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔

راجیو شکلا نے کہا دہلی میں شہریار خان کی سکیورٹی کوئی مسئلہ نہیں ہے: ’دہلی کی پولیس نے ان کی سلامتی سے متعلق تمام اقدامات کیے ہیں اور انھیں اس بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔‘

ادھر جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان جاری ون ڈے سیریز سے پاکستانی امپائر علیم ڈار کو ہٹائے جانے کے بعد ان میچوں پر ماہرانہ تبصرہ کرنے والے پاکستانی کرکٹرز وسیم اکرم اور شعیب اختر نے بھی باقی میچوں میں شرکت کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔

بھارتی ذرائی ابلاغ میں اس طرح کی بھی خبریں نشر کی جارہی ہیں کہ پاکستان نے آئندہ برس کے اوائل میں بھارت میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کی سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔