مصباح کی قائدانہ اننگز، پاکستان بڑے سکور کی راہ پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح نے اعتماد سے انگلش بولروں کو کھیلا اور دن کے آخری اوور میں معین علی کو دو چھکے لگاتے ہوئے سنچری مکمل کی

کپتان مصباح الحق کی شاندار سنچری نے دبئی کرکٹ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو بڑے سکور تک پہنچانے کا راستہ دکھا دیا۔

پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستانی ٹیم 178 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے 282 رنز تک پہنچ چکی تھی۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

دبئی ٹیسٹ کا پہلا دن: تصاویر میں

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ

مصباح الحق اپنی نویں ٹیسٹ سنچری پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کرتے ہوئے 102 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انھوں نے کسی پاکستانی کپتان کی سب سے زیادہ سات سنچریوں کا انضمام الحق کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

ان کے ساتھی اسد شفیق 46 رنز پر کریز پر موجود ہیں اور دونوں پانچویں وکٹ کی شراکت میں 104 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

اس سے پہلے کپتان الیسٹر کک ٹاس ہارگئے لیکن ان کے بولرز نے حوصلہ نہیں ہارا۔

چار وکٹیں حاصل کرنا اسی حوصلے کا نتیجہ تھا لیکن اس کے بعد مصباح الحق ان کی آڑے آگئے۔

پاکستانی ٹیم نے 50 رن سے زیادہ کے آغاز کے بعد مزید 34 رنز پر تین وکٹیں گنوائیں۔

الیسٹر کک کھانے کے وقفے سے پہلے ہی چھ بولرز کو آزما چکے تھے جن میں سے معین علی اور بین سٹوکس محمد حفیظ اور شعیب ملک کی وکٹیں لے اڑے۔

دونوں بولرز ان کامیابیوں کے لیے شارٹ لیگ کے فیلڈر جانی بیرسٹو کے شکرگزار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان اور مصباح الحق آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد رن کی نو شراکتیں قائم کر چکے ہیں

شان مسعود نے پہلے ٹیسٹ کی ناکامی کو ذہن سے نکال کر عمدہ بیٹنگ کی اور سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی دوسری ٹیسٹ نصف سنچری سکور کی لیکن کھانے کے وقفے کے بعد پہلی ہی گیند پر ان کا اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر بٹلر کے ہاتھوں کیچ ہونا پاکستانی ٹیم کے لیے مایوس کن بات تھی۔

شان مسعود مسلسل تیسری اننگز میں اینڈرسن کی وکٹ بنے ہیں۔

یونس خان اور مصباح الحق کی پراعتماد بیٹنگ پاکستانی ٹیم کو اچھی پوزیشن میں لے جا رہی تھی لیکن چائے کے وقفے کے بعد یونس خان کی 56 رنز پر اہم وکٹ مارک ووڈ نے وکٹ کیپر بٹلر کے عمدہ کیچ کے ذریعے حاصل کی تو انگلینڈ کی ٹیم کے حوصلے پھر بلند ہوگئے۔

اس وقت پاکستان کا اسکور چار وکٹوں پر 178 رنز تھا۔

یونس خان اور مصباح الحق کی شراکت میں 93 رنز بنے۔ یہ دونوں آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد رنز کی نو شراکتیں قائم کر چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان کے درمیان 13 سنچری شراکتیں قائم ہوچکی ہیں۔

Image caption شان مسعود مسلسل تیسری اننگز میں جیمز اینڈرسن کی وکٹ بنے

یونس خان کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مصباح الحق کو صورتحال کا اندازہ تھا ۔

انھوں نے پراعتماد سے انگلش بولروں کو کھیلا اور دن کے آخری اوور میں معین علی کو دو چھکے لگاتے ہوئے سنچری مکمل کر لی۔

اسد شفیق 12 کے سکور پر رن آؤٹ ہونے سے بچے اور پھر 31 کے سکور پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو ریویو بھی انگلینڈ نے ضائع کیا لیکن وہ آخر تک اپنے کپتان کا ساتھ دینے میں کامیاب رہے۔

اسی بارے میں