کک نصف سنچری بنا کر آؤٹ، یاسر شاہ کی پہلی وکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاسر شاہ نے کک کو 65 رنز پر آؤٹ کر کے میچ کی پہلی وکٹ حاصل کی ہے

دبئی میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے تین وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے ہیں۔

کھیل کے اختتام پر کریز پر روٹ اور بیئر سٹو موجود تھے جس میں روٹ 76 اور بیئر سٹو 27 پر کھیل رہے ہیں۔

انگلینڈ کو اننگز کے آغاز پر پہلا نقصان معین علی کی صورت میں ہوا جنھیں پانچ کے مجموعی سکور پر وہاب ریاض نے آؤٹ کیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

دبئی ٹیسٹ کا پہلا دن: تصاویر میں

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کک نصف سنچری بنا کر آؤٹ ہوئے

ابھی انگلینڈ کی ٹیم ابھی ابتدائی نقصان سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ بیل چار رنز بنا کر عمران خان کے گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

تاہم اس کے بعد کپتان کک اور روٹ کے درمیان عمدہ شراکت داری سے ٹیم کا مجموعی سکور 127 رنز تک پہنچ گیا۔ اس موقعے پر یاسر شاہ نے کک کی 65 رنز کی اننگز ختم کر کے میچ میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی۔

اس سے پہلے میچ کے دوسرے روز پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگ میں 387 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی ہے۔

پہلے روز کے اختتام پر پاکستان کی ٹیم نے چار وکٹوں کے نقصان پر 282 رن بنائے تھے لیکن دوسرے روز بلے باز کچھ خاص نہ کر سکے اور محض 105 رن کے اضافے کے ساتھ ہی ان کی چھ وکٹیں گر گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ کو پہلا نقصان معین علی کی صورت میں ہوا

کپتان مصباح الحق جنھوں نے پہلے دن شاندار سنچری بنائی تھی، دوسرے روز بغیر کسی رن کے اضافے کے کرس براڈ کا شکار ہو گئے۔ انھوں نے 102 رن بنائے تھے۔

دوسرے روز آخری وکٹ شفیق کی گری جنھوں نے 83 رن بنائے، ان کا کیچ مارک وڈ کی گیند پر جو روٹ نے پکڑا۔

پہلےروز مصباح کی شاندار سنچری کی بدولت ہی پاکستانی ٹیم 178 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے 282 رنز تک پہنچ گئی تھی۔

مصباح کے بعد سرفراز احمد 32 رن بنا کر اور وہاب ریاض چھ رن بنا کر معین علی کا شکار ہوئے اور دونوں کا کیچ اینڈرسن نے پکڑا۔ یاسر شاہ نے 16 رن بنائے جنھیں راشد نے آؤٹ کیا اور بابر کو تین رن پر وڈ نے آؤٹ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دوسرے روز آخری وکٹ شفیق کی گری جنھوں نے 83 رن بنائے، ان کا کیچ مارک وڈ کی گیند پر جو روٹ نے پکڑا

پہلے رز مصباح الحق نے اپنی نویں ٹیسٹ سنچری پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کی تھی۔ انھوں نے کسی پاکستانی کپتان کی سب سے زیادہ سات سنچریوں کا انضمام الحق کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

اس کے علاوہ اسی اننگز کے دوران وہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں مدثر نذر کو پیچھے چھوڑ کر ساتویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

اسی بارے میں