فیفا کےصدارتی امیدوار ’بیہودہ‘ پراپیگنڈے سے پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ d
Image caption انسانی حقوق کےگروپ کا الزام ہے کہ شیخ سلمان نے احتجاج میں شامل کھلاڑیوں کی نشاندہی میں مدد کی

فیفا کے صدارتی امیدوار شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ نے بحرین فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے اپنے خلاف بولے جانے والے ’بیہودہ جھوٹ‘ پر شدید تنقید کی ہے۔

بحرین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کی جانب سے اُن پر گرفتاریوں میں سازباز اور فٹبال کے کھلاڑیوں اور دیگر ایتھلیٹس پر تشدد کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

49 سالہ سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں وہ چیز رد نہیں کرسکتا جو میں نے کی ہی نہ ہو۔‘

’اِس طرح کے الزامات نہ صرف نقصان دہ ہیں بلکہ واقعی چوٹ پہنچانے والے ہیں۔ کچھ لوگوں کا اپنا ایجنڈا ہے‘۔

سنہ 2011 میں شیعہ گروہوں کے احتجاج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

انسانی حقوق کے گروپ کا الزام ہے کہ شیخ سلمان نے احتجاج میں شامل کھلاڑیوں کی نشاندہی میں مدد کی اور انھیں حکومت جبر سے بچانے میں ناکام رہے۔

شیخ سلمان کا کہنا تھا کہ ’یہ الزامات صرف انھیں ہی نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں بلکہ اس سے عوام اور ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔

’یہ سب غلط ہے، بیہودہ جھوٹ جس کو ماضی میں بھی اور حال میں بھی بار بار دہرایا جا رہا ہے۔‘

بی بی سی کے نمائندے رچرڈ کون وے کو انٹرویو دیتے ہوئے سلمان کا کہنا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ تنخواہ نہیں لیں گے۔

شیخ سلمان سنہ 2018 میں روس اور سنہ 2022 قطر میں ہونے والے عالمی مقابلوں کے حامی ہیں۔

اُنھوں نے کہ ’انسانی حقوق کے گروپ کے الزامات غلط اور ’بحرین کو نقصان پہنچانے‘ کے لیے ہیں۔

شیخ سلمان نے جو کہ سنہ 2013 سے ایشیا کے فٹبال کنفیڈریشن کے صدر بھی ہیں، فیفا کی ساکھ کو صاف ستھرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

رواں برس زیورچ میں فیفا کے سات اعلیٰ عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد سے فیفا کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے۔

اسی بارے میں