کم ٹیسٹ میچز پر مصباح اور وقار فکرمند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بڑی ٹیمیں سال میں 15 سے 18 ٹیسٹ میچز کھیلتی ہیں‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سال بھر میں بہت کم ٹیسٹ میچز کھیلنے پر کپتان مصباح الحق اور کوچ وقاریونس خاصے فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔

دونوں نے اس ضمن میں دبئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے بات بھی کی ہے کہ پاکستانی ٹیم کے ٹیسٹ میچز کھیلنے کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔

کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹرز جو صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں ان کے لیے ٹیسٹ سیریز کے دوران طویل وقفے میں خود کو فٹ اور اچھی فارم دکھانا آسان نہیں ہوتا۔

سیریز کو دو صفر سے ختم کرنا چاہتے ہیں: وقار یونس

مصباح الحق نے اس سلسلے میں اپنی اور لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کی مثال دی ہے جو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد انگلینڈ کے خلاف کھیل رہے ہیں۔

مصباح الحق کا یہ بھی کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد ان کی ممکنہ اگلی ٹیسٹ سیریز آئندہ سال انگلینڈ میں ہوگی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ٹیسٹ کرکٹ زیادہ سے زیادہ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ بڑی ٹیمیں سال میں 15 سے 18 ٹیسٹ میچز کھیلتی ہیں لہٰذا ہمیں اس صورتحال کو بہتر بنانی ہوگی۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام میں اب دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کرکٹ بورڈز خود طے کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بگ تھری کی حمایت اسی بنا پر کی تھی کہ یہ تینوں بڑے ممالک انگلینڈ آسٹریلیا اور بھارت۔ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلا کریں گے تاہم بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس سال صرف آٹھ ٹیسٹ میچز ہیں۔ اس نے بنگلہ دیش کے خلاف دو اور سری لنکا کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور اس وقت وہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز میں مصروف ہے جس کے بعد اس کی اگلی ٹیسٹ سیریز آئندہ سال انگلینڈ میں ہوگی۔

آسٹریلیانے اس سال سات ٹیسٹ کھیلے ہیں اورابھی اسے 30 دسمبر تک آسٹریلیا کے خلاف تین اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ کھیلنے ہیں۔

بھارت نے اس سال اب تک پانچ ٹیسٹ کھیلے ہیں اور ابھی اسے جنوبی افریقہ کے خلاف چار ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔

اسی بارے میں