کیا عادل رشید نئی نسل کو متاثر کر سکیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ابو ظہبی ٹیسٹ کے آخری روز عادل رشید سنہ 1959 کے بعد ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے برطانوی لیگ سپنر بن گئے ہیں

انگلینڈ کے بولر عادل رشید کے بارے میں کم سے کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں گیند کے ساتھ ایک مخلوط تعارف ہے۔

عادل رشید نے پاکستان کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 163 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کی تھی جو کسی بھی ڈبیو کرنے والے کھلاڑی کی خراب ترین کارکردگی ہے تاہم اِسی میچ کی دوسری اننگز میں انھوں نے 64 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو غیر معمولی فتح کے قریب کردیا تھا۔

دبئی ٹیسٹ: پاکستان نے انگلینڈ کو 178 رنز سے ہرا دیا

’تیسرے دن ہی میچ ہارگئے تھے‘

دوسرے ٹیسٹ میں شکست عادل رشید کی کارکردگی کے لیے خاصی اہم ہے، اگرچہ اپنی قابل قدر صلاحیتوں کے باوجود وہ صرف 84 رنز کے عوض ایک اور دوسری اننگز میں 107 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کر سکے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان کا کہنا تھا ’اب ہماری ٹیم میں کچھ خفیہ ہے، جو ہمارے اٹیک کو زندگی دے سکے۔‘

ابو ظہبی ٹیسٹ کے آخری روز عادل رشید سنہ 1959 کے بعد ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے برطانوی لیگ سپنر بن گئے ہیں۔

کامیاب لیگ سپنر بہت کم کیوں ہوتے ہیں؟ اور کیوں صرف چند برطانوی کھلاڑیوں میں یہ صلاحیتیں ہوتی ہیں؟

’کرکٹ میں لیگ سپن بولنگ کرنا سب سے مشکل کام ہے۔‘

Image caption انگلینڈ کے سابق بولر گریم سوان کا شمار معروف سپنرز میں ہوتا ہے

لیگ سپن بولنگ میں سیدھے ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمینوں سےگیند کو کلائی اور اُنگلیوں کی مدد سے سپین کرنا۔ اِس میں بال کو بہت زیادہ سپن کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اِس کو مکمل درست کرنا مشکل ہے۔

انگلینڈ کے سابق بولر گریم سوان کا کہنا ہے ’کرکٹ میں ابھی تک لیگ سپن بولنگ کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ اِس میں مہارت کی سطح کافی بلند اور ہر چیز سے بالا ہے اور اِس میں مستقل پرفارم کرنا بہت مشکل ہے۔‘

یہاں مختلف طریقے ہیں جیسے گُگلی، جس میں عادل رشید بہت اچھے ہیں۔ اِس میں کلائی کو گھمانے سے گیند ہاتھ کے پشت سے باہر آتی ہے اور سیدھے ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین کے دور سے سپین ہوتی ہوئی آتی ہے۔

پھر یہاں باؤنس کرنے والے اعلیٰ سپنر اور گیند کو لٹکانے والے سپنر بھی ہیں جس سے کھلاڑی لھڑکھڑا جاتے ہیں۔

بولر کا مقصد ہوتا ہے کہ ہر گیند ایسے ہی کرائی جائے جیسی پچھلی گیند تھی تاکہ کھلاڑی کو یہ اندازہ نہ ہو سکے کہ بال کس طرح سے گھومےگی۔

آسٹریلیا کے شین وارن اِن صلاحیتوں کے ماہر تھے۔

انھوں نے سنہ 1993 کی ایشز سیریز میں برطانیہ کے مائیک گیٹنگ کو ’بال آف دی سینچری‘ کرائی تھی۔ جب گیند اچانک سمت بدل کر لیگ سائید کی جانب آئی اور لیگ سٹمپ سے باہر کی جانب ٹھپا کھا کر تیزی سے گھومتے ہوئے آف سٹمپ سے ٹکرا گئی۔ اُس کے بعد سے لیگ سپن میں اِس طرح کی گیند دیکھنے میں نہیں آئی۔

برطانیہ کے اعدادوشمار میں اچھی سپین نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں وارن بہت کامیاب لیگ سپنر تھے۔ اُنھوں نے سنہ 2007 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، اُنھوں نے اپنے کرئیر میں 25.41 رنز کی اوسط سے 708 وکٹیں حاصل کیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں وارن بہت کامیاب لیگ سپنر تھے۔ اُنھوں نے سنہ 2007 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، اُنھوں نے اپنے کرئیر میں 25.41 رنز کی اوسط سے 708 وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ کے ممتاز کھلاڑی ڈاگ رائٹ نے 108 وکٹیں حاصل کیں لیکن اُنھوں نے اپنا آخری میچ سنہ 1951 میں کھیلا تھا۔

حال ہی میں ایان سلیسبری نے سنہ 1992 سے لیکر سنہ 2000 تک 15 ٹیسٹ میچوں میں 76.95 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کیں۔

کرس سکوفیلڈ نے سنہ 2000 میں صرف دو میچ کھیلنے اور اِس میں کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

سکاٹ بورتھ وِک 15-2014 میں انگلینڈ کے لیے ایشز سیریز کا آخری میچ کھیلنے کے بعد دست بردار ہوگئے تھے۔ اُنھوں نے اِس سیریز میں 20.50 رنز کی اوسط سے چار وکٹیں حاصل کی تھی۔

بورتھ وِک سنہ 1968 میں باب باربر کے بعد انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے پہلے لیگ سپنر تھے جنھوں نے ایشز میں وکٹیں حاصل کیں۔

عادل رشید سے تقریبا 56 سال قبل لنکا شائر کے ٹومی گرین ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے آخری برطانوی لیگ سپنر تھے۔

برطانیہ کس طرح اِس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کررہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیر ملکی لیگ سپنرز جس میں وارن، کمبلے اور مشتاق احمد شامل ہیں۔ انھوں نے کاؤنٹی کرکٹ میں سینکڑوں وکٹیں حاصل کی ہیں

برطانیہ اور ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے سنہ 1999 میں اِس مقصد کے ساتھ لیگ سپنر کو سامنے لانے اور اُن کی تربیت کے پروگرام کا آغاز کیا تھا کہ سنہ 2007 میں اُن سے کوئی ایک ٹیسٹ ٹیم کا حصہ ہوگا۔

اِس کوشش میں بورتھ وِک، یارک شائر کے مارک لاسن اور سمرسیٹ کے مائیکل منڈے سامنے آئے لیکن صرف بارتھ وِک نے ہی کاؤنٹی کرکٹ کھیلی اور وہ صف اول کے سپنر سے بلے باز بن کر کارکردگی دکھانے لگے۔

منڈے نے 25 برس کی عمر میں سنہ 2010 تک سمر سیٹ کی نمائندگی کی۔ اُنھوں نے فرسٹ کلاس کھیل میں 29.46 رنز کی اوسط سے 86 وکٹیں حاصل کیں اور اپنا آخری میچ مارچ سنہ 2009 میں کاؤنٹی چیمئین شپ میں کھیلا تھا۔

برطانیہ کی پچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زیادہ باؤنس نہیں کرتیں جیسے کہ آسٹریلیا یا بھارت کی پچیں جو کہ بہت زیادہ ٹرن کرتی ہیں۔

لیکن غیر ملکی لیگ سپنرز جس میں وارن، کمبلے اور مشتاق احمد شامل ہیں۔ انھوں نے کاؤنٹی کرکٹ میں سینکڑوں وکٹیں حاصل کی ہیں۔

لاسن کا کہنا ہے ’اِس مشکل کا حالات اور پچوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ ہم فوری کامیابی چاہتے ہیں۔ ایک لیگ سپنر کے طور پر 28 اور 29 سال کی عمر میں تک آپ پر بہت اچھے اور بُرے سال آتے رہتے ہیں۔‘

یہاں تک کہ عادل راشد کو پہلی بار سنہ 2008 میں سکواڈ میں شمولیت کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن اُنھیں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے سات سال انتظار کرنا پڑا۔

سنہ 2005 میں ایک کلب کے لیگ سپنر کی جانب سے یونیوسٹی آف سٹیفورڈ شائر کے ماہر نفسیات جمی بارکر اور مارک جونز سے رابطہ کیا گیا تھا۔

انھوں نے ہائپنوسس کے کورس کا مشورہ دیا تھا۔ اس میں بولر کو سو بار گہری سانس لینی اور تصور کرنا پڑتا ہے کہ وہ سیڑھیاں اتر کر ایک کمرے میں داخل ہوا جس میں بہت سارے کارڈ موجود ہیں اور اُن پر ’اپنے آپ کو متعاف کروائیں‘ اور ’فیصلہ کرنے والے بنو‘ جیسی عبارتیں لکھی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کے میچ کے آغاز سے قبل اپنے آپ کو بیت الخلا میں بند کر لیا۔

اگرچہ اگلے کچھ سالوں میں اُن کی کارکردگی اچھی رہی اور تجربہ جاری نہیں رہا۔ اب بارکر اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لیگ سپنر کو خاص طور پر اپنے کردار کو ادا کرنے کے لیے زیادہ مدد درکار ہوتی ہے۔

کیا عادل رشید نئی نسل کو متاثر کرسکتے ہیں؟

سنہ 2015 میں تمام طرح کے سپنر برطانیہ کی کاؤنٹی کرکٹ میں صرف 21.5 فیصد اوورز کرواتے تھے۔

ای سی بی کے سپن کوچ پیٹر سچ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تیار کیے گئے کھلاڑی برطانیہ کی نمائندگی کرسکیں۔

وارن نے عادل رشید کو سکھانے کی پیشکش کی ہے۔ ان کی نظر میں رشید ’بہت متاثر کُن بچے‘ ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ کپتان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ نوجوان سپنر کے لیے کس طرح سے فیلڈ سیٹ کرنی ہے اور میچ کے ممکنہ فاتح کی کاردگی کے مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔

آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے برطانوی کوچ ٹریور بیلس کا پہلے ٹیسٹ کے بعد کہنا تھا کہ اتنا عرصے سے برطانیہ کے پاس لیگ سپنر کی کمی کیوں تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اکثر یہ بہت زیادہ مہنگے ثابت ہوتے ہیں یا شاید زیادہ درست نہیں ہوتے ہیں۔

’شاید گدشتہ کئی سالوں کے دوران برطانیہ کا زیادہ زور اِس بات پر رہا ہے کہ زیادہ رنز بنانے سے روکا جائے لیکن میرا ماننا ہے کہ رنز بنانے سے روکنے کا سب سے بہترین طریقہ وکٹیں حاصل کرنا ہے۔‘

یہاں نئی نسل کے نوجوانوں کھلاڑیوں کے سامنے آنے کے کافی آثار ہیں۔ 18 سالہ میسن کرین جن کو ’بہت باصلاحیت‘ کہا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے اس گرمیوں میں ہمشائر کی جانب سے چیمئین شپ کے اپنے پہلے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

24 سالہ جوش پوئسڈین نے اِس سال وارک شائر کی جانب سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا ہے اور اُنھوں نے اپنے انداز سے وارن اور سابق برطانوی کپتان مائیکل آیتھرٹن کو کافی متاثر کیا ہے۔

اسی بارے میں