’مصباح ابھی ریٹائرمنٹ کا مت سوچیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کے خیال میں پاکستان کے لیے کسی نئے کپتان کے ساتھ آئندہ سال انگلینڈ کا دورہ کرنا آسان نہ ہوگا اس صورتحال میں مصباح الحق کو ٹیم کی خاطر ریٹائرمنٹ کے بارے میں فی الحال نہیں سوچنا چاہیے۔

یاد رہے کہ انگلینڈ کے خلاف موجودہ سیریز سے قبل مصباح الحق نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے۔

ریٹائرمنٹ کا سوچنا شروع کر دیا ہے: مصباح الحق

’پاکستان کو مصباح کی ضرورت ہے‘

رمیز راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کرکٹ میں کسی نے ہمیشہ نہیں کھیلنا ہوتا ہے۔ ہر کرکٹر کو ایک نہ ایک دن کرکٹ چھوڑنی ہوتی ہے اور کہیں نہ کہیں تو پاکستانی ٹیم کو بھی مصباح الحق کے بغیرزندگی گزارنے پڑے گی۔‘

’مصباح الحق کو خود اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ اس وقت وہ اپنے ریفلکسز۔ سیم بولنگ اور باؤنسی وکٹوں پر بیٹنگ کے اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں اور وہ ان حالات میں کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں کیونکہ انھیں انگلینڈ کے آئندہ سال کے دورے میں انہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

رمیزراجہ نے کہا کہ مصباح الحق کو وہ یہی مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی موجودہ فارم کو انگلینڈ کے دورے تک لے جاسکتے ہیں کیونکہ ’انھوں نے نہ صرف کپتان کی حیثیت سے بلکہ مڈل آرڈر بیٹنگ میں بھی استحکام دیا ہوا ہے اس لیے انہیں اپنا کریئر جاری رکھنا چاہیے۔‘

رمیزراجہ نے کہا کہ پاکستان کو مصباح الحق کی ابھی ضرورت ہے گو کہ ان کے لیے اور یونس خان کے لیے انگلینڈ کی کنڈیشنز میں اس طرح کی پرفارمنس دینا اتنا آسان نہیں ہوگا جو یہ دونوں متحدہ عرب امارات میں دکھاتے آئے ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم پچھلی ٹیم سے بہت مختلف ہے جو 2012 میں یہاں آئی تھی ۔اس کے پاس اچھے بیٹسمین ہیں لیکن اسپن بولنگ اب بھی اس کی کمزوری ہے۔ اگر اسے ایشیا میں اچھی کارکردگی دکھانی ہے اور میچز جیتنے ہیں تو اسے بہت اچھے اسپنرز سامنے لانے ہوں گے۔

Image caption رمیز راجہ کے بقول مصباح نے مڈل آرڈر بیٹنگ میں بھی استحکام دیا ہوا ہے

اسی بارے میں