انگلینڈ کے بولروں کے سامنے پاکستانی بیٹنگ بے بس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن انگلینڈ کے بولرز نے پاکستانی بیٹسمینوں کے گرد ایسا شکنجہ کسا کہ پوری ٹیم صرف 234 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

کپتان مصباح الحق واحد بیٹسمین تھے جنھوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے71 رنز بنائے۔

شارجہ ٹیسٹ: پاکستان کی پوری ٹیم 234 رنز پر آؤٹ

شارجہ ٹیسٹ کا پہلا دن

ایک ایسی وکٹ پر جو ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی سیشن میں’سپن دوست‘ دکھائی دینے لگی تھی انگلینڈ کے فاسٹ بولرز جیمز اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ نے اپنی عمدہ بولنگ سے پاکستانی ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کے اوسان خطا کردیے۔

وکٹوں کے اس بٹوارے میں سپنرز معین علی اور سمیت پٹیل بھی پیچھے نہ رہے۔

مصباح الحق نے مسلسل چھٹا ٹاس جیتا لیکن ان کا پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ ان کے اپنے بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کی نذر ہوگیا۔

انگلینڈ نے وکٹ کو کچھ زیادہ ہی سپن بولنگ کے لیے مہربان جان کر تین سپنرز ٹیم میں شامل کیے جس کے نتیجے میں لیفٹ آرم سپنر سمیت پٹیل کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور وہ تین سال بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

سمیت پٹیل کی طرح جیمز ٹیلر کی بھی تین سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

پاکستان نے شان مسعود کو ڈراپ کرکے اظہرعلی کو ان کی ریگولر ون ڈاؤن پوزیشن کے بجائے اوپنر کے طور پر کھلانے کا فیصلہ کیا جو کامیاب نہ ہوسکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ کی جانب سے سب سے کامیاب بولر جیمز اینڈرسن رہے۔ انھوں نے چار وکٹیں حاصل کیں

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھا موقع تھا کہ اظہرعلی نے اننگز کا آغاز کیا لیکن صفر پر اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر جانی بیرسٹو کو کیچ دے گئے۔

گذشتہ چاروں اننگز میں شان مسعود اینڈرسن کے پسندیدہ شکار رہے تھے اس بار اظہرعلی بھی آسانی سے ان کے قابو میں آگئے۔

محمد حفیظ نے 27 رنز پر غیرضروری شاٹ کھیل کر براڈ کے ہاتھوں کیچ ہوکر معین علی کو وکٹ تھمادی۔

دوسرے سیشن میں تین وکٹیں گرجانے سے پاکستانی ٹیم ہل کر رہ گئی۔

شعیب ملک جو 22 کے انفرادی سکور پر امپائر بروس آکسنفرڈ کی جانب سے ایل بی ڈبلیو آؤٹ دینے کافیصلہ ریوویو کی مدد سے تبدیل کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے 38 کے سکور پرسٹورٹ براڈ سے نہ بچ سکے جنھوں نے انھیں وکٹ کیپر جانی بیرسٹو کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

83 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد انگلش بولرز مصباح الحق اور یونس خان کو خاموشی سے کھیلنے پر مجبور کر چکے تھے اس دوران سٹورٹ براڈ نے مسلسل چھ اوورز میڈن کیے اور دوسری جانب سے جیمز اینڈرسن یونس خان کی قیمتی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جو 31 رنز بناکر فل ٹاس گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

جب سمیت پٹیل نے اسد شفیق کو صرف 5 رنز پر بیرسٹو کے ہاتھوں کیچ کرایا تو پاکستان کی آدھی ٹیم صرف 116 رنز پر پویلین کا رخ کرچکی تھی۔

مصباح الحق نے سرفراز احمد کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں قیمتی 80 رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تین سال بعد انگلش ٹیم کا حصہ بننے والے سمیت پٹیل نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

سرفراز احمد جو اس سیریز میں پہلی بار خود کو ایک بڑی اننگز کے لیے تیار کرتے ہوئے نظر آرہے تھے 39 کے انفرادی سکور پر معین علی کی گیند پر جو روٹ کوکیچ دے گئے۔

پاکستان کی آخری امید مصباح الحق سے وابستہ تھی لیکن 71 کے سکور پر وہ جیمز اینڈرسن کی گیند پر دوسری سلپ میں جو روٹ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں سات چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

اس سیریز کی پانچویں اننگز میں یہ ان کی تیسری نصف سنچری تھی اس کے علاوہ وہ ایک سنچری بھی سکور کر چکے ہیں۔

پاکستان کی آخری پانچ وکٹیں سکور میں صرف38 رنز کا اضافہ کر سکیں۔

جیمز اینڈرسن چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے، براڈ، پٹیل اور معین کےحصے میں دو دو وکٹیں آئیں۔

انگلینڈ نے کھیل کے اختتام پر بغیر کسی نقصان کے چار رنز بنائے تھے۔

مصباح الحق نے راحت علی کے ساتھ نئی گیند پر یاسر شاہ سے بولنگ شروع کرائی ہے اور وہی اب انگلینڈ کو کم سکور پر آؤٹ کرنے کے لیے ان کی سب سے بڑی امید ہیں۔

اسی بارے میں