شہریار خان نے کیا بھارت جانے سے پہلے اجازت لی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کی ہندو نواز جماعت شیو سینا نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط بحال کرنے کے لیے بات چیت کرنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کیا تھا

بین الصوبائی رابطے کے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ چیئرمین شہریار خان نے بھارت جانے کے لیے دفتر خارجہ سے مشورہ کیا تھا یا نہیں؟

وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے شہریار خان سے یہ وضاحت بھی مانگی ہے کہ آیا انھوں نے وزیراعظم سے بھی اجازت طلب کی تھی یا نہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔

شہریار خان نے اصل بات چھپائی ہے: نجم سیٹھی

بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر پر شیو سینا کا دھاوا

بین الصوبائی رابطے کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پاک بھارت تعلقات میں موجودہ کشیدگی کے پیش نظر اس طرح کے فیصلوں میں حکومت کو اعتماد میں لینا اور کرکٹ بورڈ کی قیادت کو اس طرح کی کسی بھی اہم نوعیت کی بات چیت سے قبل بھارت میں حفاظتی صورت حال اور جارحانہ ماحول کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔

یاد رہے کہ شہریار خان اور بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر کے درمیان بات چیت سے کچھ دیر پہلے شیوسینا کے مشتعل کارکنوں نے ممبئی میں بی سی سی آئی کے دفتر پر دھاوا بول دیا تھا جس کے بعد یہ بات چیت منسوخ کرنی پڑی تھی۔

ریاض پیرزادہ کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک افسوس ناک ہے۔

انھوں نے ملک میں صدر اور وزیراعظم کے ماتحت کھیلوں کی تمام فیڈریشنوں کو مستقبل میں اس طرح کے معاملات میں محتاط رہنے کے لیے کہا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان چند روز قبل ہی یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کو لاعلم رکھے بغیر بھارت نہیں گئے تھے اور ان کے بھارت جانے کے معاملے میں دفترخارجہ باخبر تھا۔

اسی بارے میں