کک اور روٹ آؤٹ، لیکن ٹیلر ہاتھ نہ آ سکے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیمز ٹیلر اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 74 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں

ٹیسٹ ٹیم میں تین سال بعد واپس آنے والے جیمز ٹیلر کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے انگلینڈ کو شارجہ ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف اچھی پوزیشن میں لا کھڑا کر دیا ہے۔

انگلینڈ نے دوسرے دن کھیل ختم ہونے پر 222 رنز بنائے تھے اور اس کی صرف چار وکٹیں گری تھیں۔

انگلینڈ کے بولروں کے سامنے پاکستانی بیٹنگ بے بس

شارجہ ٹیسٹ: پاکستان کی پوری ٹیم 234 رنز پر آؤٹ

اس طرح وہ پاکستان کے سکور 234 رنز سے اب صرف 12 رنز پیچھے ہے اور اس کی چھ وکٹیں باقی ہیں۔

دوسرے دن سخت گرمی اور پہلے دن کے مقابلے میں آسان ہوتی ہوئی وکٹ پر پاکستانی بولروں کے لیے بولنگ آسان نہ تھی۔

انگلینڈ کو کم سکور پر محدود کرنے کے لیے کپتان مصباح الحق یاسر شاہ کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہے تھے جنھوں نے الیسٹر کک اور ایئن بیل کو پویلین کی راہ دکھائی۔

ذوالفقار بابر اور راحت علی کا اثر ٹیلر کی اننگز سے پہلے تک قائم رہا جس کے بعد توازن انگلینڈ کی جانب منتقل ہو گیا۔

انگلینڈ کے لیے اوپننگ اس سیریز کا ایک اہم مسئلہ بنی رہی ہے۔ آٹھویں نمبر کے بیٹسمین معین علی کو اوپنر بنا کر انگلینڈ کی ٹیم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس مرتبہ وہ 14 رنز بناکر شعیب ملک کی گیند پر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

اس سیریز کی پانچ اننگز میں معین علی صرف 62 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں جس میں سب سے بڑا سکور 35 ہے۔

انگلینڈ نے پہلے سیشن کا اختتام 87 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر کیا تھا لیکن دوسرے سیشن میں اس کے دو اہم مہرے سرک گئے۔

کپتان الیسٹرکک صرف ایک رن کی کمی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور یاسر شاہ کی گیند پر اظہر علی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

چار اننگز میں یاسر شاہ نے تیسری مرتبہ کک کی وکٹ حاصل کی ہے۔

صرف سات رنز کے اضافے پر راحت علی کی آف سٹمپ سے باہر کی گیند پر سرفراز احمد کے غیر معمولی کیچ نے جوروٹ کی وکٹ بھی پاکستان کو دلا دی۔

جو روٹ صرف چار رنز بناسکے جو اس سیریز میں ان کا سب سے کم سکور ہے۔

اس سے قبل وہ ابوظہبی میں 85 اور 33 ناٹ آؤٹ جبکہ دبئی ٹیسٹ میں88 اور 71 رنز کی اننگز کھیل چکے ہیں۔

ایئن بیل اور جیمز ٹیلر نے ان دو زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش کی اور اس دوران رنز بنانے کی رفتار کچھوے کی رفتار کی طرح سست رہی لیکن چائے کے وقفے کے بعد یاسر شاہ نے ای این بیل کو 40 رنز پر سرفراز احمد کے خوبصورت سٹمپ کی مدد سے آؤٹ کر دیا۔

بیل ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز کی نصف سنچری کے بعد سے بڑے سکور کو ترس رہے ہیں اور ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ان کے کریئر میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

بیل آؤٹ ہونے سے قبل ذوالفقار بابر کے ہاتھ آتے آتے رہ گئے تھے جب سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کی اپیل امپائر نے مسترد کر دی۔ ریویو پر بھی فیصلہ پاکستانی ٹیم کے خلاف گیا جس پر کپتان مصباح الحق خوش نہیں تھے۔

اس اہم سیریز میں ڈی آر ایس کا نامکمل ٹیکنالوجی کے بغیر استعمال ہو رہا ہے جس کا زیادہ نقصان پاکستانی ٹیم کو ہوا ہے۔

اسی بارے میں