مشیل پین ’میلبرن کپ‘ جیتنے والی پہلی خاتون جوکی بن گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ epa

آسٹریلیا کی مشیل پین آسٹریلیا کی سب سے اعلیٰ درجے کی گھوڑوں کی ریس ’میلبرن کپ‘ جیتنے والی پہلی خاتون گھڑ سوار بن گئی ہیں۔

نیوزی لینڈ کی نسل سے تعلق رکھنے والا پرنس آف پینزینس فیورٹ نہ ہونے کے باوجود ریس کا فاتح رہا۔

فرانسیسی گھوڑا میکس ڈائنامائٹ دوسرے اور نیوزی لینڈ سے ہی تعلق رکھنے والا گھوڑا کرائٹیرین تیسرے نمبر پر رہا۔

پین کا کہنا تھا کہ میلبرن کپ جیتنا ’آسٹریلیا کے ہر گھڑ سوار کا خواب ہے‘۔

اُنھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میری بہن اور مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں جیت جاؤں گی اور ایسا ہی ہوا جیسا میں نے سوچا تھا۔‘

مشیل پین کا کہنا تھا کہ وہ اُس وقت سے میلبرن کپ جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہیں جب وہ صرف پانچ سال کی تھیں۔

پین نے گھڑ دوڑ میں صنفی فرق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’یہ مردانہ ذہنیت کا کھیل ہے، میں کئی مالکوں کو جانتی ہوں جو مجھے دوڑ سے باہر کرنا چاہتے تھے۔‘