شہ سرخیوں سے دور لیکن کپتان کا قابل اعتماد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راحت علی کی ڈھیلی ڈھالی چال ان کے فاسٹ بولر ہونے کا پتہ نہیں دیتی۔

وہ اپنے دوسرے ساتھی کرکٹروں کے مقابلے میں کم گو بھی واقع ہوئے ہیں۔

وہ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بھی برائے نام دکھائی دیے ہیں اور ان کے انٹرویو بھی بہت کم ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کپتان مصباح الحق کے قابل اعتماد بولر ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ جب بھی ضرورت پڑی ہے راحت علی نے مایوس نہیں کیا۔

راحت علی اپنے تین سالہ مختصر بین الاقوامی کریئر میں 14 ٹیسٹ کھیل چکے ہیں لیکن ان 14 میں سے نو ٹیسٹ میچ انھیں متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کو ملے ہیں جہاں کی وکٹیں سپنروں کے لیے زیادہ سازگار ہیں۔

ظاہر ہے یہ کسی بھی فاسٹ بولر کے لیے آئیڈیل صورت حال نہیں ہے، لیکن راحت علی نے ان وکٹوں پر بھی بولنگ کر کے ہمت نہیں ہاری۔

’یہ سب کو معلوم ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وکٹیں سپنروں کے لیے مددگار ہیں لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ مجھے جو بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے اچھی طرح نبھاؤں۔‘

راحت علی نے اپنے کریئر میں ایک مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ ابوظہبی میں نیوزی لینڈ کےخلاف ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انھوں نے 17 اووروں میں صرف 22 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کی تھیں اور دوسری اننگز میں بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے مسلسل گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

راحت علی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ اپنے ساتھی فاسٹ بولروں کے مقابلے میں وہ پس منظرمیں رہے ہیں۔

’ہر بولر کا کردار طے کیا جاتا ہے۔ اگر ایک اینڈ سے وہاب ریاض اٹیک کر رہے ہیں تو میں دوسری جانب سے رنز روکنے کی کوشش کرتا ہوں اور ایسے میں اگر وکٹ بھی مل جائے تو اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ دونوں اینڈ سے بولر اٹیک کریں۔‘

راحت علی کے کریئر کی سب سے اچھی بولنگ ان کے دوسرے ہی ٹیسٹ میں رہی تھی جب انھوں نے سنچورین میں جنوبی افریقہ کے چھ بیٹسمین آؤٹ کیے تھے۔ اس کے علاوہ ہرارے میں انھوں نے زمبابوے کی پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

’یہ دونوں کارکردگیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگر کنڈیشنز فاسٹ بولروں کے لیے سازگار ہوں تو میری کارکردگی زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی آپ کی قسمت کا بھی عمل دخل زیادہ ہوتا ہے، یہی کرکٹ ہے۔‘

راحت علی نے انگلینڈ کے خلاف موجودہ سیریز میں دنیا کے نمبر ایک بیٹسمین جو روٹ کو دوبار آؤٹ کیا ہے جس پر وہ بہت خوش ہیں۔

’جوروٹ کو آؤٹ کرنے کے لیے آپ کو اٹیکنگ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ بڑی تیزی سے رنز کرتے ہیں جس کے بعد انھیں روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میں نے اسی حکمت عملی کے تحت ان کی وکٹ حاصل کی۔‘

راحت علی نے 13 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے جن میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 18 ہے لیکن ان کی کارکردگی میں خاصا اتارچڑھاؤ رہا ہے۔

اگر وہ ایک جانب عالمی کپ میں جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ کے خلاف اچھی بولنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب سری لنکا کے گذشتہ دورے کے دو میچوں میں انتہائی مہنگی بولنگ بھی ان کے کھاتے میں لکھی ہوئی ہے۔

لیکن لوگ راحت علی کو ایک اور وجہ سے زیادہ یاد رکھتے ہیں جب انھوں نے ورلڈ کپ میں وہاب ریاض کے طوفانی سپیل کے دوران شین واٹسن کا کیچ ڈراپ کر دیا تھا۔

کوئی یہ بھولے یا نہیں خود راحت علی اس لمحے کو بھلا دینا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں