’قوی امید ہے کہ آخری دن آٹھ وکٹیں لے لیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے اوپنر محمد حفیظ کو قوی امید ہے کہ پاکستان شارجہ ٹیسٹ کے آخری دن انگلینڈ کی آٹھ وکٹیں حاصل کرکے سیریز کو دو صفر سے اپنے حق میں ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

محمد حفیظ کہتے ہیں کہ اس وکٹ پر چوتھی اننگز میں بیٹنگ آسان نہیں۔ شعیب ملک نے دو وکٹیں حاصل کر لی ہیں جبکہ یاسر شاہ اور ذوالفقاربابر بھی انگلش بیٹسمینوں پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ’وکٹ میں سپنروں کے لیے جو مدد ہے وہ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اس لیے انھیں امید ہے کہ وہ آخری دن انگلینڈ کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

کیا بولرز پاکستان کو جتوادیں گے؟

284 رنز کا ہدف، انگلینڈ کے دو کھلاڑی آؤٹ

محمد حفیظ کے خیال میں اس وکٹ کے لحاظ سے انگلینڈ کو جو ہدف دیا جانا چاہیے تھا وہ دے دیاگیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کو وقت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔وہ اچھی کرکٹ کھیلنا چاہتی تھی اور یہی ذہن میں تھا کہ اس وکٹ پر 200 سے زیادہ کا کوئی بھی سکور آخری اننگز میں کرنا بہت مشکل ہو گا۔

محمد حفیظ نے اپنی 151 رنز کی اننگز کے بارے میں کہا کہ اسے وہ ایک اچھی اننگز سمجھتے ہیں کیونکہ اس وکٹ پر بیٹگ آسان نہیں تھی، آؤٹ فیلڈ بھی سست تھی ایسے میں آپ کو چانس لینے پڑتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اظہرعلی نے ان کا بہت ساتھ دیا اور ان کی وجہ سے انھیں بہت اعتماد ملا۔ اسد شفیق اور سرفراز احمد نے بھی اچھی بیٹنگ کی۔

محمد حفیظ نے تسلیم کیا کہ وہ سنچری کے قریب آنے پر نروس تھے کیونکہ وہ انگلینڈ کے خلاف ماضی میں متعدد بار نروس نائنٹیز کا شکار ہو چکے ہیں لہٰذا اس موقعے کو ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے تھے۔

محمد حفیظ کا اصرار ہے کہ وہ پہلے بیٹسمین ہیں بعد میں بولر۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی بولنگ نے ٹیم کا کامبینیشن بنانے میں بڑی مدد دی ہے ۔ بولنگ نہ کرنے کا دکھ ضرور ہے لیکن وہ ضرور واپس آئیں گے، فی الحال ان کی تمام تر توجہ بیٹنگ پر ہے۔

محمد حفیظ کو شارجہ ٹیسٹ میں جیمز اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ کی ریورس سوئنگ نے بہت حیران کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ 13 سال سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن اس میچ میں براڈ اور اینڈرسن نے جس طرح ریورس سوئنگ کی ہے ایسی نہ انھوں نے نہ کھیلی اور نہ دیکھی ہے۔ دونوں کو اس میں بہت مہارت حاصل ہے ممکن ہے کہ یہ ان کا فن ہو یا کچھ اور۔

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ ایسی ریورس سوئنگ ماضی میں وسیم اکرم اور وقار یونس کیا کرتے تھے۔

اسی بارے میں