میچ فکسنگ: نیپالی فٹبالروں پر غداری کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے میچوں میں جان بوجھ کر کوالیفائنگ کے کئی مواقع گنوائے

نیپال میں پولیس کا کہنا ہے کہ پانچ نیپالی فٹبالرز پر سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اُن پر غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔

نیپالی فٹبال ٹیم کے سابقہ کپتان ساگر تھاپا اور گول کیپر رتیش تھاپا اور دیگر تین کھلاڑیوں کو گذشتہ ماہ زیرِ حراست لیا گیا۔

پولیس کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے ان میچ فکسروں کے بینک اکاؤنٹوں میں کثیر رقمیں پائی گئی ہیں۔

کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے میچوں میں جان بوجھ کر کوالیفائنگ کے کئی مواقع گنوائے۔

کٹھمنڈو میں خصوصی عدالت کے رجسٹرار بھدرا کلی پوکھرل نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’حکومت نے گذشتہ ماہ پانچ فٹبالروں کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور عمر قید کی سزا کی درخواست کی گئی ہے۔‘

پوکھرل نے بتایا کہ ان پر سنہ 1989 کے ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا جس کی رو سے کوئی بھی شخص ’جس نے نیپال کی خودمختاری، سالمیت یا قومی اتحاد کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی یا وہ اس کا مرتکب ہوا وہ عمر قید کی سزا کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘

توقع کی جارہی ہے کہ فٹبالروں کو پیر کے روز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فٹبال کی ورلڈ گورننگ باڈی فیفا حالیہ چند ماہ کے دوران مبینہ بدعنوانیوں کے متعدد سکینڈلوں میں اُلجھی رہی ہے۔

اسی بارے میں