سری نواسن آئی سی سی کے عہدے سے برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شری نواسن پر اقتصادی بے ضابطگیوں اور سپاٹ فکسنگ جیسے سنگین الزامات ہیں جبکہ وہ الزامات کو مسترد کرتے ہیں

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے این سری نواسن کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں نامزدگی ختم کر دی ہے اور ان کی جگہ بی سی سی آئی کے نئے صدر ششانک منوہر کو نامزد کیا ہے۔

سری نواسن کے علاوہ دوسرے اہم عہدیداروں کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا گيا ہے جبکہ بھارت کے سابق کپتان سوربھ گانگولی کو آئی پی ایل کی گورننگ کونسل میں شامل کیاگیا ہے۔

ممبئی میں پیر کو بی سی سی آئی کے سالانہ اجلاس میں سری نواسن کو آئی سی سی سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل انوراگ ٹھاکر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی سی سی میں ان کی جگہ اب موجودہ بی سی سی آئی سربراہ ششانك منوہر لیں گے جو سنہ 2016 تک ان کے عہدے کو سنبھالیں گے۔

آئی پی ایل کی ٹیم چینئی سپر کنگز کے مالک شری نواسن پر اقتصادی بے ضابطگیوں اور سپاٹ فکسنگ جیسے سنگین الزامات ہیں۔ وہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں بھارتی سپریم کورٹ نے سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ وہ مفادات کے تصادم کی وجہ سے بی سی سی آئی کا الیکشن نہیں لڑ سکتے۔

Image caption بھارت کے سابق کپتان سوربھ گانگولی کو آئی پی ایل کی گورننگ کونسل میں شامل کیاگیا ہے

سری نواسن کے داماد گروناتھ ميپّن کو بھی عدالت نے سپاٹ فکسنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

ششانک منوہر نے کہا کہ مفادات کے تصادم کے معاملات کو حل کرنے کے لیے دہلی کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ بی سی سی آئی کے محتسب ہوں گے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ تمام معلومات مکمل شفافیت کے ساتھ بی سی سی آئی کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی اور مکمل سالانہ رپورٹ پہلے ہی ویب سائٹ پر ڈال دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل سے منسلک متنازع معاملات کی انکوائری بورڈ کی سطح پر کی جائے گي۔

پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کے ایک سوال پر ششانک منوہر نے کہا کہ اس کے لیے حکومت سے اجازت لینی پڑے گی اور اسی کی بنیاد پر بورڈ کا فیصلہ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کے بورڈ کے کام کاج میں پیشہ ور لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔

روی شاستری کو بھی آئی پی ایل کی گورننگ کونسل سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے راجر بنی کو بھی بی سی سی آئی کی سلیکشن کمیٹی سے دست بردار ہونا پڑا ہے۔ البتہ ان کے بیٹے سٹیورٹ بنی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ششانک منوہر نے کہا کہ ان کے کریئر میں کوئی دخل نہیں دیا جائے گا۔

اسی بارے میں