انضمام الحق کا افغانستان سے ایک سالہ معاہدہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ایک سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان نے انضمام الحق کی خدمات زمبابوے کے حالیہ دورے میں بطور ہیڈ کوچ حاصل کی تھیں۔ اس دورے میں افغانستان نے زمبابوے کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی تھی۔

انضمام الحق افغان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرینگے

یہ پہلا موقع تھا کہ افغانستان نے کسی ٹیسٹ ٹیم کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کامیابی حاصل کی ۔

انضمام الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے دو روز قبل ہی ایک سالہ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

’افغان کرکٹ حکام تین سالہ معاہدے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن میں نے فی الحال ایک سالہ معاہدے میں حامی بھری ہے تاکہ میں بھی بحیثیت کوچ اپنی کارکردگی کو اچھی طرح جانچ سکوں کیونکہ کوچنگ میرے لیے نیا تجربہ ہے۔ اگر وہ میری کارکردگی سے مطمئن ہوئے تو اس معاہدے میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔‘

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ٹیم کی اصل کوچنگ اسی وقت ہوگی جب وہ میچز نہیں کھیل رہی ہوگی۔

’افغانستان کی ٹیم ان دنوں بہت مصروف ہے۔ اسے متحدہ عرب امارات میں عمان ہانگ کانگ اور پاپوا نیوگنی کے خلاف میچز کھیلنے ہیں اور پھر زمبابوے سے بھی اس کی سیریز ہے۔ ابھی میں کھلاڑیوں کو گیم پلان اور میچز کے بارے میں ہی بتا سکتا ہوں جبکہ ٹیکنیکل کوچنگ اس وقت ہوگی جب ٹیم کو فارغ وقت ملے گا اور متحدہ عرب امارات میں کیمپ لگایا جائے گا۔‘

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ چونکہ افغانستان کے بیشتر کھلاڑی اردو سمجھ لیتے ہیں لہذا انھیں بھی کوچنگ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے اور رابطے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی ہوئی ہے۔

انضمام الحق کے مطابق کرکٹ سے جنون افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو آگے بڑھا رہا ہے۔

’اسے آپ جنگجویانہ صفت کہہ لیں یا فائٹنگ سپرٹ۔ افغانستان کی ٹیم مقابلہ کرنا اور آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ کھلاڑی سیکھنا چاہتے ہیں اور مجھے ان کے ساتھ کام کرکے مزا آیا ہے۔‘

انضمام الحق بارہ نومبر کو ایک دن کے لیے کابل جا رہے ہیں جہاں وہ مقامی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا فائنل دیکھنے کے علاوہ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے تاہم خانہ جنگی کا شکار ملک جاتے ہوئے وہ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہیں۔

’میری فیملی کو اگرچہ اس بارے میں تشویش ہے لیکن میری سوچ واضح ہے۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کابل میں افغانستان کی قومی اکیڈمی ہے لہذا اگر وہ مجھے وہاں بلاتے ہیں تو مجھے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے کسی نہ کسی مرحلے پر وہاں جانا پڑے گا اور میں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں۔‘

انضمام الحق کوچنگ کے اس نئے تجربے سے لطف اٹھا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا چاہیں گے۔

’مجھے کرکٹ میں جو بھی نام ملا ہے وہ پاکستان سے کھیلنے کی وجہ سے ملا ہے لہذا اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے میرے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہا تو میں ہر وقت تیار ہوں۔ میرے کوچنگ کرنے سے یہ تاثر بھی غلط ثابت ہوا ہے کہ میں شاید کوچنگ میں دلچسپی نہیں رکھتا یا میں کوچنگ کرنا نہیں چاہتا۔اب چونکہ میں اس فیلڈ میں آ گیا ہوں تو مجھے اپنی کارکردگی پرکھنے کا بھی موقع ملے گا اور دوسروں کو بھی میری کوچنگ کے بارے میں اندازہ ہوسکے گا۔‘

پاکستان کے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ہمارے سابق کرکٹرز کو کوچنگ میں آنا چاہیے اور اپنا تجربہ دوسروں کو منتقل کرنا چاہیے۔ یقیناً ہر سابق کرکٹر پاکستانی ٹیم کے ساتھ وابستہ نہیں ہوسکتا لیکن وہ کسی نہ کسی دوسرے ملک اور ٹیم کے ساتھ رہ کر اپنے تجربے سے نوجوان کرکٹرز کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اسی بارے میں