ون ڈے سیریز، پاکستانی ٹیم کا نیا امتحان

Image caption پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار ایک روزہ میچ کھیلے جائیں گے

پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے بعد اب ون ڈے سیریز کی شکل میں ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔

چار میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بدھ کے روز ابوظہبی میں کھیلا جا رہا ہے۔

ایک روزہ میچوں کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان، یونس کی واپسی

ایشز کے فاتح کو ہرانا معمولی بات نہیں: مصباح

پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہرعلی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز جیتنے سے ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے اور اسی مورال سے وہ ون ڈے سیریز بھی کھیلےگی اور جیت کا تسلسل قائم رکھنا چاہےگی۔

اظہرعلی نے کہا کہ اگر انگلینڈ جیسی اچھی رینکنگ کی ٹیم کے خلاف پاکستانی ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہوگا۔

اس وقت انگلینڈ کی ٹیم آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے اور پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

اظہرعلی کو امید ہے کہ یونس خان کا تجربہ ٹیم کے کام آئےگا اور وہ ون ڈے سیریز میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو کامیابی دلائیں گے۔

یاد رہے کہ یونس خان کو سلیکٹروں نے ٹیسٹ سیریز کی حالیہ عمدہ کارکردگی پر ون ڈے ٹیم میں شامل کیا ہے۔ وہ آخری بار ون ڈے میچ ورلڈ کپ میں کھیلے تھے لیکن مایوس کن کارکردگی کے سبب ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کر دیےگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی کی کپتانی میں اب تک پاکستان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز جیت چکا ہے

پاکستانی کپتان نے مزید کہاکہ پاکستانی ٹیم ون ڈے میں عمدہ کارکردگی دکھا کر عالمی رینکنگ میں بہتر پوزیشن تک آنے کی کوشش ک ررہی ہے، جو عالمی کپ اور پھر بنگلہ دیش کےخلاف سیریز میں متاثر ہوئی تھی جس کے بعد ٹیم نے سری لنکا اور زمبابوے میں اچھی کارکردگی دکھائی اور وہ کوشش کرے گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھے۔

اظہر علی اب تک چار ون ڈے سیریز میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں جن میں سے تین میں انھیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن اپنے نوجوان کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سال نوجوان کرکٹروں نے عمدہ حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

عالمی کپ کے بعد سے انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی ہے البتہ اسے آسٹریلیا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں