’زیادہ وقت نہیں بچا، پاکستان کو جتوانا چاہتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption رفعت اللہ مہمند فرسٹ کلاس کرکٹ میں 19 سال گزار چکے ہیں

اگر کوئی بھی کرکٹر فارم میں اور فٹ ہو تو پھر عمر ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔

فارم اور فٹنس ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے پشاور سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ بیٹسمین رفعت اللہ مہمند کو پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ میں شامل کیا ہے۔

پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ کا اعلان

رفعت اگر انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں کھیلنے میں کامیاب ہوئے تو وہ ٹی 20 انٹرنیشنل کریئر کا آغاز کرنے والے کسی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے حقدار ملک کے سب سے عمر رسیدہ کرکٹر ہوں گے۔

موجودہ ریکارڈ بھارت کے راہل دراوڈ کا ہے جنھوں نے38 سال 232 دن کی عمر میں اپنا پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔

رفعت اللہ مہمند کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے اور وہ اس موقعے سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

’میرا جتنا بھی کریئر بچا ہے میں چاہوں گا کہ پاکستان کی طرف سے کھیلتے ہوئے اچھی سے اچھی پرفارمنس دوں اور میچ جتوا سکوں۔ اگر میں اس میں کامیاب رہا تو بہت خوشی ہو گی۔ میری سیلیکشن درحقیقت تمام کرکٹروں کے لیے پیغام بھی ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔‘

رفعت اللہ مہمند فرسٹ کلاس کرکٹ میں 19 سال گزار چکے ہیں۔ اس طویل کریئر میں ان کے نام کے آگے فرسٹ کلاس کرکٹ میں دوسری وکٹ کے لیے 580 رنز کی سب سے بڑی شراکت کا عالمی ریکارڈ بھی درج ہے۔

دسمبر 2009 میں عامر سجاد کے ساتھ قائم کی گئی اس شراکت میں رفعت اللہ کا اپنا سکور 302 رنز ناٹ آؤٹ تھا۔

’جب میں نے یہ عالمی ریکارڈ بنایا تو مجھے قوی امید تھی کہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا لیکن مجھے موقع نہ ملا سکا جس پر میں بہت زیادہ مایوس تھا کہ 32، 33 سال کی عمر میں ورلڈ ریکارڈ کے باوجود موقع نہیں ملا تو پھر آئندہ کب ملے گا۔‘

رفعت کہتے ہیں کہ اس طویل کریئر میں ان کے لیے کرکٹ ہی سب سے بڑی تحریک رہی ہے۔

’اگر کرکٹر مایوس ہو بھی جائیں تو کہاں جائیں گے کیونکہ کرکٹ ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے اور یہی بات ہمیں مقابلہ کرتے رہنے پر اکساتی رہتی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ہر سیزن میں اچھی پرفارمنس دوں اور خود کو فٹ رکھوں۔‘

اسی بارے میں