راس ٹیلر کی ڈبل سنچری، نیوزی لینڈ کے 500 رن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راس ٹیلر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا بہترین سکور بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ ہزار رن بھی مکمل کر لیے

راس ٹیلر کی ڈبل سنچری کی بدولت پرتھ میں کھیلے جانے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 510 رن بنا لیے۔

جب کھیل ختم ہوا تو نیوزی لینڈ کو آسٹریلوی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 49 رنز درکار تھے اور کریز پر ٹیلر 235 رنز بنانے کے بعد موجود تھے۔

نیوزی لینڈ نے اتوار کو دو وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز سے اننگز دوبارہ شروع کی تو کین ولیمسن نے ٹیلر کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کے لیے 265 رنز کی شراکت قائم کر ڈالی۔

اس دوران ولیمسن نے رواں برس چوتھی ٹیسٹ سنچری مکمل کی اور وہ 166 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

جب ولیمسن پویلین لوٹے تو نیوزی لینڈ کا سکور 352 تھا۔

اپنے ساتھی کے جانے کے باوجود ٹیلر نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور چوتھی وکٹ کے لیے برینڈن میککلم کے ساتھ مزید 80 رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مچل سٹارک کے 21 ویں اوور کی چوتھی گیند کی رفتار سپیڈ ریڈار پر 160.4 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی

راس ٹیلر نے نہ صرف اس دوران ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا بہترین سکور بنایا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ ہزار رن بھی مکمل کر لیے۔

تیسرے دن کے کھیل کی ایک اہم بات آسٹریلوی بولر مچل سٹارک کی تیز بولنگ بھی رہی۔

ان کے 21 ویں اوور کی چوتھی گیند کی رفتار سپیڈ ریڈار پر 160.4 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 99.67 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔

اگر یہ اعدادوشمار تجزیے کے بعد برقرار رہے تو یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پھینکی جانے والی تیز ترین گیند ہوگی۔

کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے پاس ہے جنھوں نے 2003 میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ کرکٹ میچ میں 161.3 کلومیٹر کی رفتار سے گیند کی تھی۔

اسی بارے میں