پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت کا دورہ نہیں کرنا چاہیے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز پیسوں کا نہیں بلکہ ملکی وقار کا معاملہ ہے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو کسی طور پر بھی بھارت کا دورہ نہیں کرنا چاہیے اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔

پیر کے روز پنجاب ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جس طرح بھارت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان، نجم سیٹھی، سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور پاکستانی گلوکار غلام علی کے ساتھ رویہ اختیار کیا گیا تو ایسے حالات میں کیسے بھارت کا دورہ کیا جا سکتا ہے؟

بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر پر شیو سینا کا دھاوا

غلام علی کے بعد’خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی منسوخ کرو‘

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز پیسوں کا نہیں بلکہ ملکی وقار کا معاملہ ہے جس پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم نے اگلے ماہ پاکستان کے خلاف کرکٹ سیریز کھیلنی ہے لیکن ابھی تک بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرف سے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرف سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ یہ محدود سیریز پاکستان بھارت میں آ کر کھیلے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے سے متعلق وفاقی حکومت فیصلہ کرے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور دوسری طرف سے پاکستان سے دشمنی کی باتیں کی جائیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بھارتی انتہا پسند تنظیم شیوسینا کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوانے کے لیے پاکستان کو کاوشیں کرنا ہوں گی۔

اُنھوں نے کہا اس انتہا پسند تنظیم کے اراکین نے اپنے لوگوں کے منھ کالے نہیں کیے بلکہ اس تنظیم کے ’دل کالے ہیں۔‘

پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک دس غیر سرکاری تنظیموں نے اپنی رجسٹریشن کروائی ہے جبکہ 100 سے زائد این جی اوز نے رجسٹریشن کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

اسی بارے میں