پاکستانی بیٹسمین پھر منہ کے بل گر پڑے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان اظہرعلی، شعیب ملک اور محمد رضوان کے رن آؤٹ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا

پاکستانی بیٹنگ کا پاور فیوز کر کے انگلینڈ نے تیسرا ون ڈے 6 وکٹوں سے جیت لیا اور چار میچوں کی سیریز میں دو ایک کی انتہائی اہم برتری حاصل کر لی۔

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کے مانوس ماحول میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹسمینوں نے دیکھنے والی ہر نظر کو اپنے کھیل سے بے حد مایوس کیا۔

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

اسی وکٹ پر پاکستان نے انگلینڈ کو ٹیسٹ میچ میں ہرایا تھا اور اسی میدان پر کھیلے گئے آخری ون ڈے میں پاکستانی بیٹسمینوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف364 رنز بنا ڈالے تھے لیکن انگلینڈ کے بولرز نے اس بار انھیں صرف 208 رنز پر محدود کر دیا۔

غیرذمہ داری اور حواس باختگی کا ملاپ پاکستانی بیٹنگ میں عیاں تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے چھ وکٹیں صرف 29 رنز کے اضافہ پر گنوا دیں حالانکہ ایک موقع پر اس نے صرف دو وکٹوں پر 132 رنز بنا لیے تھے اور 20 سے زائد اوورز باقی تھے۔

کپتان اظہرعلی، شعیب ملک اور محمد رضوان کے رن آؤٹ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔جو بیٹسمین رن آؤٹ نہ ہوئے وہ بھی کچھ نہ کر سکے۔

سب سے زیادہ 45 رنز بنانے والے محمد حفیظ اپنے کپتان کو رن آؤٹ کرانے کے خطاوار تھے لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد وہ 38 گیندیں کھیل کر صرف 13 رنز کا اضافہ کر پائے۔

بیٹنگ آرڈر میں ترقی پاکر چوتھے نمبر پر بھیجے گئے سرفراز احمد کا بیٹ بھی آج خاموش رہا۔افتخار احمد ایک بار پھربڑے میچ کا دباؤ برداشت نہ کر پائے۔

شعیب ملک سے ٹیسٹ کے بعد اب ون ڈے میں بھی رنز روٹھنے لگے ہیں۔

وہاب ریاض کے تین چھکوں کی وجہ سے سکور بورڈ پر ڈبل سنچری والے ہندسے نظر آ سکے۔

چار وکٹیں ایڈم واکس کے نام رہیں۔ یہی وہی واکس ہیں جنھوں نے مسلسل چھ میچوں میں وکٹ سے محرومی کے بعد ابوظہبی کے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی چار وکٹیں حاصل کی تھیں اور اس بار بھی وہ چار بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔

معین علی اور عادل رشید کی سپن جوڑی نے بھی رنز کے معاملے میں اپنی گرفت مضبوط رکھی۔

انگلینڈ کے لیے ہدف تک پہنچنا اتنا آسان ثابت نہ ہوا جیسا کہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا۔

اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے ظفرگوہر کے ہاتھوں جوئے روٹ اور الیکس ہیلز کی وکٹیں انگلینڈ کے لیے بڑا دھچکہ تھیں اور جب شعیب ملک نے کپتان اوئن مورگن کو آؤٹ کیا تو پاکستانی ٹیم کو امید کی کرن نظر آنے لگی لیکن جیمز ٹیلر اور جوز بٹلر کی شاندار سنچری شراکت میچ کو اپنی طرف کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے ظفرگوہر کے ہاتھوں جوئے روٹ اور الیکس ہیلز کی وکٹیں انگلینڈ کے لیے بڑا دھچکہ تھیں

جیمز ٹیلر نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے سیریز میں اپنی دوسری نصف سنچری سکور کی۔

بٹلر اس دورے میں پہلی بار بیٹنگ میں اپنی موجودگی کا احساس دلاگئے۔ان کے 49 رنز کسی طور بھی ٹیلر کی نصف سنچری سے کم نہ تھے۔

سیریز کا چوتھا اور آخری ون ڈے بیس نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

انگلینڈ کی ٹیم اب یہ سیریز ہار نہیں سکتی اور پاکستانی ٹیم سیریز جیت نہیں سکتی صرف برابر کر سکتی ہے۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف آخری بار ون ڈے سیریز 2005 میں جیتی تھی جس کے بعد سے وہ 2010 اور 2012 میں سیریز ہار چکی ہے جبکہ 2006 میں سیریز برابر رہی تھی۔

اسی بارے میں