بھارت میں نہیں کھیلنا

تصویر کے کاپی رائٹ Both Photos by AFP
Image caption اپنا موقف بیان کر دیا ہے اور بھارت کے جواب کا زیادہ دن انتظار نہیں کیا جا سکتا: چیئرمین پی سی بی، شہریارخان

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی ہوم سیریز بھارت جاکر نہیں کھیلے گا اس لیے بھارت کو چاہیے کہ وہ مفاہمت کی یادداشت کی پاسداری کرتے ہوئے یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلے۔

شیو سینا کا بی سی سی آئی کے دفتر پر دھاوا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے منگل کے روز بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے بعد کہا کہ متحدہ عرب امارات میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے لہٰذا بھارت کے لیے کوئی جواز نہیں بنتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ وہاں سیریز نہ کھیلے۔

واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ پاکستانی ٹیم یہ سیریز بھارت آ کر کھیل سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کے روز ایک بیانمیں کہا کہ پاکستانی ٹیم کو بھارت میں جا کر نہیں کھیلنا چاہیے کیونکہ حالیہ دنوں میں وہاں پاکستانیوں کے ساتھ خراب رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی رضامندی کے بعد ہی بگ تھری کی پاکستان نے حمایت کی تھی۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنا موقف بیان کر دیا ہے اور اب بھارت کے جواب کا زیادہ دن انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

شہریار خان نے کہا کہ تمام تر صورتِ حال وزیراعظم نواز شریف کے علم میں ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر ہم عمل کریں گے۔

شہریار خان نے آئندہ سال بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی شرکت کے بارے میں کہا کہ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن اس میں بھی ہمیں حکومت کی اجازت درکار ہو گی۔

شہریار خان نے کہا کہ بھارت سے سیریز نہ ہونے کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے اخراجات میں کمی لانی ہو گی، اپنا بجٹ 50 فیصد کم کرنا ہو گا اور ڈاؤن سائزنگ کرنا ہو گی۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ بگ تھری کی حمایت کا فیصلہ غلط نہیں تھا لیکن یہ بات درست ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی رضامندی کے بعد ہی پاکستان نے بگ تھری کی حمایت کی تھی۔

شہریار خان نے تسلیم کیا کہ پہلے سال پاکستان سپر لیگ کو خسارے کا سامنا ہو گا۔

اسی بارے میں