دن رات کا ٹیسٹ اورگیند گلابی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ٹیسٹ کرکٹ کی ایک 138 سالہ تاریخ کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان جمعہ سے ایڈیلیڈ میں شروع ہو گا جس میں گلابی رنگ کی گیند استعمال کی جائے گی۔

سابق کرکٹرز گلابی گیند کے ساتھ نائٹ ٹیسٹ میچ کو ایک اہم قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال کو یقین ہے کہ نائٹ ٹیسٹ میچ کو شائقین کی پذیرائی حاصل ہوگی۔

آصف اقبال سنہ 1970 کے عشرے میں کیری پیکر کی شروع کی گئی ورلڈ کرکٹ سیریز کا اہم حصہ تھے جس نے کرکٹ کو سب سے پہلے رنگین لباس، سفید گیند اور نائٹ میچوں سے روشناس کرایا تھا اور آج وہ کرکٹ کی دنیا میں ہونے والی ہر تبدیلی کو کیری پیکر سیریز کی مرہونِ منت قرار دیتے ہیں۔

آصف اقبال نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا: ’جب کیری پیکر نے نائٹ کرکٹ، رنگین لباس اور سفید گیند متعارف کرائی تو سب نے ان کا مذاق اڑایا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تمام چیزیں بین الاقوامی کرکٹ کا حصہ بنتی چلی گئیں اور سب نے انھیں قبول کر لیا لہذا اب کرکٹ میں گلابی گیند اور نائٹ ٹیسٹ میچ بھی ایک خوشگوار اضافہ ہے۔‘

آصف اقبال کا کہنا ہے کہ گلابی گیند سے کھلاڑیوں کو ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت لگے گا جیسا کہ سفید گیند کے ساتھ ہوا تھا لیکن یہ ایک اچھا قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کی کامیابی کا انحصار کرکٹرز سے زیادہ شائقین پر ہوگا کہ وہ اسے کتنا پسند کرتے ہیں اور کتنی بڑی تعداد میں میدان میں آ کر میچ دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی ریٹنگ بھی دیکھی جائے گی کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو پھر یہ سلسلہ دوسرے ممالک میں بھی ہوگا۔ انھیں یقین ہے کہ نائٹ ٹیسٹ آنے والے دنوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

آصف اقبال کے مطابق گلابی گیند یا نائٹ ٹیسٹ میچ سے ٹیسٹ کرکٹ کی روایت پسندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ کرکٹ نارمل طریقے سے کھیلی جائے گی اور اس کےلیے قوانین میں کوئی ردوبدل نہیں ہو رہا ہے۔

بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر بھی گلابی گیند اور ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

گواسکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نائٹ ٹیسٹ کرکٹ اور گلابی گیند اچھی ابتدا ہے۔

انھوں نے کہا ’کرکٹ کو اپنی روایات پر ضرور قائم رہنا چاہیے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ قدم بھی بڑھاناچاہیے۔ آج کل کی کرکٹ ان کے زمانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرکشش ہوگئی ہے اور شائقین جس طرح کی دلچسپ کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں وہ انھیں مل رہی ہے۔‘

اسی بارے میں