’دنیا نے تسلیم کیا لیکن اپنوں نے رکاوٹ ڈالی‘

تصویر کے کاپی رائٹ kiran baloch
Image caption کرن بلوچ کہتی ہیں کہ انھیں کرکٹ کھیلتے ہوئے مذہبی جماعتوں کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا

پاکستان کو بین الاقوامی خواتین کرکٹ میں متعارف کروانے والی شائزہ خان اور شرمین خان ہیں۔

جس زمانے میں ان دونوں بہنوں نے کرکٹ کھیلی ان کی ساتھی کھلاڑیوں میں کرن بلوچ سرفہرست تھیں۔

کرن بلوچ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے بڑی اننگز کھیلنے والی کرکٹر ہیں۔انھوں نے مارچ سنہ 2004 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں242 رنز سکور کیے تھے۔

کرن بلوچ نے بی بی سی کے خصوصی سلسلے ’سو خواتین سیزن‘ کے لیے دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے جس دور میں کرکٹ کھیلی ہے وہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کا سنہری دور تھا لیکن حکومتی اور سیاسی مداخلت کے سبب ان کے لیے کرکٹ کھیلنا بہت دشوار رہا۔

’پاکستان ویمنز کرکٹ ایسوسی ایشن کا الحاق انٹرنیشنل ویمنز کرکٹ کونسل سے تھا جس کے نتیجے میں ہماری ٹیم نے ورلڈ کپ بھی کھیلے اور دیگر سیریز بھی کھیلیں لیکن ہماری ٹیم کی اہمیت دیکھ کر لاہور میں سرکاری سرپرستی میں متوازی ایسوسی ایشنز قائم کرکے انھیں پاکستان کی نمائندہ ٹیمیں قرار دینے کی کوشش کی گئی۔‘

کرن بلوچ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ میں جب تک عارف علی خان عباسی رہے انھوں نے ہماری بہت حوصلہ افزائی کی لیکن ان کے بعد ہماری کرکٹ کو خراب کرنے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ kiran baloch

’بورڈ کے متعدد سابق چیئرمین حضرات اس میں پیش پیش رہے جنھیں ہمارا کھیلنا گوارا نہ تھا حالانکہ ہم نے کبھی بھی ان سے مالی مدد نہیں مانگی البتہ کوچز اور گراؤنڈز کی درخواست ضرور کی تھی۔‘

کرن بلوچ کہتی ہیں کہ انھیں کرکٹ کھیلتے ہوئے مذہبی جماعتوں کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

’جب ہماری ٹیم بنی تھی تو ہم نے مردوں کی ٹیم کے ساتھ ایک نمائشی میچ رکھا تھا جس پر مذہبی حلقوں کی طرف سے اعتراض سامنے آیا تھا لیکن جب ہم نے بتایا کہ مستقبل میں ہماری کرکٹ خواتین ہی کے درمیان ہوا کرے گی تو پھر ان کی طرف سے کبھی اعتراض نہیں ہوا۔‘

کرن بلوچ کو وہ وقت بھی یاد ہے جب ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے تھے۔

’سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ہمیں ملک سے باہر جانے سے بھی روکا گیا اور متوازی ٹیم تیار کرکے اسے ورلڈ کپ میں کھلانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن بین الاقوامی تنظیم نے اس ٹیم کو ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا اور ہماری ٹیم ورلڈ کپ کھیلی۔‘

کرن بلوچ کو اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہے کہ 11 سال سے ان کا نام ریکارڈ بک میں عالمی ریکارڈ ہولڈر کے طور پر درج ہے۔

’مجھے فخر ہے کہ پاکستان کا نام 11 سال گزر جانے کے بعد آج بھی دو عالمی ریکارڈز کی وجہ سے وزڈن میں موجود ہے جس میں میری ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 242 رنز کی اننگز اور اسی میچ میں شائزہ خان کی 13 وکٹوں کا ریکارڈ جو کسی ٹیسٹ میں کسی بھی بولر کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔‘

کرن بلوچ کو اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پاکستانی خواتین ٹیم کی وجہ سے ویمنز ورلڈ کپ کا ڈریس کوڈ تبدیل کیا گیا۔

’سنہ 1997 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے سبب پہلی بار ٹراؤزر پہن کر کرکٹ کھیلی گئی جبکہ اس سے قبل عالمی ایونٹ میں خواتین کرکٹرز اسکرٹس پہن کر کھیلتی تھیں۔‘

Image caption بی بی سی نے اپنے سنہ 2015 کے ’100 خواتین‘ سیزن کے لیے دنیا بھر سے، زندگی کے تمام شعبوں اور عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کا انتخاب کیا ہے جو دیگر خواتین کے لیے زندگی میں باعثِ تحریک ہیں

اسی بارے میں