پاکستانی حکومت نے پاک بھارت کرکٹ سیریز کی اجازت دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومتِ پاکستان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھارت کے خلاف آئندہ ماہ سری لنکا میں کرکٹ سیریز کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو بتایا کہ کرکٹ بورڈ کو حکومت کی جانب سے اجازت کا خط موصول ہوگیا ہے۔

’پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط پر ابھی فیصلہ نہیں‘

’بھارت سے سیریز پر حکومت نے تاحال آگاہ نہیں کیا ہے‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سیریز کی تفصیلات کا اعلان بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیریز کھیلنے کی رضامندی سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کو اپنی حکومت کی جانب سے اجازت کا تاحال انتظار ہے۔

واضح رہے کہ دونوں کرکٹ بورڈ کے سربراہان نے گذشتہ دنوں دبئی میں ملاقات کی تھی جس میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ملک یہ سیریز کسی نیوٹرل مقام پر کھیلیں گے کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنےسے انکار کرتے ہوئےکہا تھا کہ پاکستان یہ سیریز بھارت میں کھیل لے لیکن پاکستانی حکومت نے پاکستانی ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

ادھر بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے رشتوں کی بحالی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

دہلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے رات دیرگئے ٹوئٹر پر کہا ’ کرکٹ سیریز کے بارے میں سوالات پر اپ ڈیٹ: ابھی بھارت اور پاکستان کے درمیان سیریز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘

بھارتی میڈیا میں جمعرات کی صبح سے ہی یہ قیاس آرائی جاری تھی کہ حکومت نے مجوزہ سیریز کی اجازت دیدی ہے۔

اس کے بعد انڈین پریمئر لیگ کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر راجیو شکلانے کہا کہ دونوں ملک سری لنکا میں کھیلنے پر تیار ہوگئے ہیں اور یہ سیریز ممکنہ طور پر 15 دسمبر سے کھیلی جائے گی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے بعد قیاس آرائی تو فی الحال ختم ہوگئی ہے لیکن یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ اگر حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی نہیں دکھائی گئی تھی تو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے پاکستان کو بھارت آ کر کھیلنے کی دعوت کس بنیاد پر دی تھی؟

بھارتی بورڈ کے اہلکار ماضی میں کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کرکٹ کے رشتوں کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن باہمی تعلقات کی حساس نوعیت کے پیش نظر حتمی فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ حکومت کی رضامندی کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر بی جے پی کے رہنما ہیں اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کرکٹ کے منتظم ادارے سے بہت قریب سے وابستہ ہیں اور بورڈ کے نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

کئی ٹی وی چینلوں پر حکومت کے اس ’فیصلے‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بحث کا محور یہ تھا کہ جب تک پاکستان ‎’دہشت گردی کی پشت پناہی بند نہیں کرتا، اس کے ساتھ کرکٹ کیسے کھیلی جاسکتی ہے؟‘

سوشل میڈیا پر بھی اس ’فیصلے‘ کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ٹوئٹر پر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے صاف انکار کردینا چاہیے۔

اسی بارے میں