اپنے لیے مددگار پچ بنانا غیراخلاقی؟

تین سال پہلے ایک 83 سالہ بھارتی شخص نے اس وقت کے کرکٹ کپتان کو ’غیر اخلاقی‘ کہا تھا۔

پربیر مکھر جی نامی شخص نے ایڈن گارڈنز کولکتہ میں کھیلے جانے والے اس ٹیسٹ میچ کی پچ بنائی تھی۔ اس ٹیسٹ میچ میں بھارت اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا اور اس وقت بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے تجویز دی تھی کہ ٹیسٹ میچ کے لیے سپن ٹریک بنایا جائے۔

کرکٹ کی پچ بنانا کوئی ہوبہو سائنس نہیں ہے، ماضی میں بھارت میں ’سپننگ‘ ٹریکس بنتے رہے ہیں جہاں تیز بولروں نے بھارتی بیٹنگ کو تہس نہس کر دیا تھا جبکہ ’فلیٹ‘ پِچوں پر تیز بولروں نے تباہیاں مچا دیں۔

بھارت میں سپننگ وکٹیں بنانے والوں کی پسندیدہ تکنیک یہ ہے کہ پچ کو ضرورت سے کم تیار کیا جائے۔

سپن بولنگ ایک عرصے سے بھارتی ٹیم کی طاقت رہی ہے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بھارت کا دورہ کرنے والے سپن بولر بھارت کے بہترین بولروں کے مقابلے میں اکثر زیادہ کامیاب رہے ہیں، جن میں رچی بینو، ایشلی میلٹ، لانس گبز، ڈیرک انڈر وڈ، مونٹی پانیسر اور گریم سوان شامل ہیں۔

اخلاقی یا غیر اخلاقی؟

کسی بھی مہمان ٹیم کے بولروں کو مدد دینے کے لیے پچیں تیار کرنا نہ غیر قانونی ہے اور نہ ہی غیر اخلاقی۔ بلکہ ایسا نہ کرنا بےوقوفی ہو گی۔

اگر 50 برس پہلے جِم لیکر اولڈ ٹریفررڈ کی خشک پچ پر 19 وکٹیں حاصل کر سکتے ہیں تو اس کا کریڈٹ کپتان پیٹر مے کو جاتا ہے جنھوں نے گراونڈ سٹاف کو اس بات کے لیے راضی کیا کہ وہ اس پچ کو پہلے سے پانی نہ دیں۔ کیا ایسا کرنا غیر اخلاقی تھا یا غیر قانونی؟

کھیل میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ کرکٹ کے کھیل میں اگر کوئی بولر بولنگ کرتے ہوئے لکیر عبور کر لیتا ہے تو تو امپائر اسے فوراً ہی ’نو بال‘ قرار دے دیتا ہے تاہم یہ غیر اخلاقی نہیں ہے۔

اسی طرح کرکٹ میں اگر آپ امپائر سے کیچ کی اپیل کریں جبکہ آپ کو معلوم ہو کہ گیند نےگراؤنڈ چھو لیا ہے تو یہ غیر اخلاقی بات ہے تاہم یہ غیر قانونی نہیں ہے۔

پچ تیار کرنے والوں کا کام آسان نہیں ہے۔ ایک طرف تو میزبان ٹیم کا مطالبہ ہوتا ہے کہ پچ ان کی مدد کرے، بھلے میچ تین دنوں میں ختم ہو جائے۔ دوسری طرف ٹیلی ویژن والوں کی فرمائش ہوتی ہے کہ میچ پورے پانچ دن چلے۔

تکنیک کی کمی

بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری حالیہ ٹیسٹ سیریز کے لیے موہالی اور ناگپور میں بنائے جانے والی پچیں سپن کے لیے ضرورت سے زیادہ مددگار نہیں تھیں۔

یہ سچ ہے کہ ان پچوں نے شروع میں سپن بولروں کو مدد دی تاہم یہ ایسے بیٹسمین کی ساتھی رہیں جو رکنا اور جم کر کھیلنا جانتے تھے۔

ناگپور ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 40 رنز کا سکور سب سے زیادہ سکور تھا جس کا الزام پچ پر نہیں دھرا جا سکتا تاہم یہ بیٹسمینوں کی تکنیک کی کمی ضرور قرار دی جا سکتی ہے۔

کسی بھی شخص کو یہ امید نہیں ہے کہ انگلینڈ میں تیز رفتار بولروں کے لیے بنائی گئی پچیں آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ میں بنائی جانے والی پچوں کی طرح ہوں گی۔

کرکٹ یا کسی بھی کھیل میں جادو اس کے تنوع میں ہوتا ہے۔ حالات بدلنے سے چیلنج بھی بدل جاتے ہیں۔

کھیل میں حالات کو فتح کر کے مخالف ٹیم پر قابو کرنا کھیل کی اصل روح ہے۔

پچوں، میدانوں اور موسم میں یکسانیت نہ مکمن ہے اور نہ ہی پسندیدہ ہے۔ جنوبی افریقہ کی بھارت ٹیم کو مشکل پچوں کا سامنا کرنا ہو گا اور یہ ناگزیر ہے۔

بھارتی ٹیم جو اپنے ملک کی کنڈیشنز میں غالباً خوش ہوتی ہے، اس کے اندر بھی تکینک کی کمی دیکھنے میں آئی۔

جب بھارت کے لیگ سپنر نریندر ہیرانی نے چینئی میں کھیلے جانے والے اپنے کریئر کے پہلے ٹیسٹ میں 16 وکٹیں لیں تو اس وقت ویسٹ انڈیز کے کپتان ویو رچرڈز نے کہا تھا ’آپ ہمارے گھر آئیں تو ہم آپ کو دکھائیں گے۔‘

اسی بارے میں