یہ شکست آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے: وقار یونس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ کی نوجوان ٹیم آپ کے سامنے ہے ۔پاکستانی ٹیم میں اسی چیز کی کمی تھی: وقار یونس

انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں تین صفر کی شکست سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کی تیاریوں کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ یہ شکست آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کیونکہ اس سیریز میں کئی ایسی خامیاں نظر آئی ہیں جو اس سے پہلے دکھائی نہیں دی تھیں۔

انگلینڈ نے پاکستان کو سپر اوور میں شکست دے دی

وقار یونس کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں میں سب سے بڑا اور واضح فرق فٹنس کا تھا اور ٹی 20 بہت تیز کرکٹ ہے اور پاکستانی ٹیم انگلینڈ کا مقابلہ نہ کر سکی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ عمر اکمل، احمد شہزاد اور صہیب مقصود جیسے کھلاڑی اپنا ٹیلنٹ کارکردگی میں کیوں تبدیل نہیں کر سکتے۔

’یہ تینوں اب نوجوان کرکٹر نہیں ہیں، پختہ ہوچکے ہیں اور انھیں کھیلنے کے متواتر مواقع مل رہے ہیں لہٰذا اب سلیکٹرز کو سوچنا ہوگا۔‘

وقار یونس نے کہا کہ ’یہ سوال سلیکٹرز سے پوچھا جائے کہ وہ کارکردگی نہ دکھانے والے کرکٹرز کو کب تک ٹیم میں رکھنا چاہیں گے۔ تاہم ان کرکٹرز نے پچھلی سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لہذا یہ کہہ دینا کہ یہ ختم ہوگئے ہیں یہ قبل ازوقت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقار یونس کے مطابق عمر اکمل ماضی میں جارحانہ اننگز کھیل چکے ہیں یہی سوچ کر انھیں سپر اوور میں بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آنے والا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کرکٹرز کی جگہ لینے والے کرکٹرز کون ہیں۔‘

پاکستانی کوچ نے کہا کہ ٹیم کی موجودہ کارکردگی کے بعد سب کو مل کر سوچنا ہوگا اور سب کو مشترکہ طور پر ذمہ داری لینی ہوگی اور یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا نہیں ہے۔

وقار یونس نے عمر اکمل کو سپر اوور میں بیٹنگ کے لیے بھیجنے کے بارے میں کہا کہ وہ ماضی میں جارحانہ اننگز کھیل چکے ہیں یہی سوچ کر انہیں بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔

انھوں نے پاکستانی بیٹسمینوں کے بار بار رن آؤٹ ہونے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سکول بوائے والی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بیٹسمین انتہائی تجربہ کار ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ آپ نے نیا کھلاڑی کھلا دیا اور وہ پریشر میں آگیا۔‘

ان کے مطابق ’یہ صورتحال انفرادی طور پر کھلاڑیوں اور پوری ٹیم کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ اگر یہ اسی طرح دباؤ میں آتے رہے تو پھر ٹیم نہیں جیت سکے گی۔‘

وقاریونس نے واضح کیا ہے کہ ان کے نزدیک نوجوان کرکٹرز کی زیادہ اہمیت ہے۔ ’انگلینڈ کی نوجوان ٹیم آپ کے سامنے ہے ۔پاکستانی ٹیم میں اسی چیز کی کمی تھی۔

اسی بارے میں