محمد عامر کی سلیکشن پر غور کررہے ہیں: شہریار

Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقاریونس نے بھی محمد عامر کی ممکنہ واپسی کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کو پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کیے جانے پر غور ہورہا ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے محمد عامر کی موجودہ کارکردگی پر مکمل اطمینان ظاہر کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس عمدہ کارکردگی کے سبب ٹیم کا دروزاہ کھٹکھٹا رہے ہیں ۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو آئندہ ٹیم میں لانے پر غور ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ محمد عامر کو سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ بٹھا کر سمجھایا جائے گا کہ اگر آپ ٹیم میں واپس آتے ہیں تو آپ کے رویے میں انکساری ہونی چاہیے کیونکہ آپ جس دور سے گزرے ہیں لوگ آپ کے رویے کو دیکھیں گے۔

شہریارخان نے کہا کہ وہ خود محمد عامر سے اس بارے میں بات کرینگے۔

انھوں نے کہا کہ محمد عامر کے معاملے میں تھوڑی بہت پیچیدگیاں ہیں لیکن انہیں دور کیا جائے گا اور ایک پالیسی بنائی جائے گی۔اگر سلیکٹرز اور کوچ محمد عامر کو منتخب کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سلسلےمیں بورڈ آف گورنرز سے اجازت لی جائے گی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقاریونس نے بھی محمد عامر کی ممکنہ واپسی کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ محمد عامر نے اپنےکیے کی سزا پوری کرلی ہے لہذا وہ اپنی کرکٹ دوبارہ شروع کرنے میں حق بجانب ہیں اور ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم انہیں دوبارہ موقع دیں۔

یاد رہے کہ 2010ء میں جب محمد عامر دیگر دو کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں پکڑے گئے تھے تو اسوقت ٹیم کے کوچ وقاریونس تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمد عامر کو واپس لانے کے برعکس پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی محمد حفیظ اور سابق کپتان رمیز راجہ اس واپسی کے سخت خلاف ہیں۔

محمد حفیظ نے حال ہی میں یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ایسی ٹیم میں نہیں کھیلیں گے جس میں محمد عامر شامل ہونگے۔

سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ محمد عامر یا کسی بھی سزایافتہ کرکٹر کو پاکستان سپر لیگ میں شامل کرنے سے اس ایونٹ کی شہرت متاثر ہوگی۔

واضح رہے کہ رمیز راجہ پاکستان سپر لیگ کے ایمبسیڈر ہیں اور وہ شروع ہی سے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں