بلیٹر اور پلاٹینی پر آٹھ سال کی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے

ضابطہ اخلاق سے متعلق تحقیقات کے بعد فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر اور یوئیفا کے سربراہ میشل پلاٹینی پر آٹھ سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

دونوں افراد فٹبال سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے اور پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

دس کڑور ڈالر کا سکینڈل، بلیٹر کا کردار کیا تھا؟

سیپبلیٹر ہسپتال داخل

ایک کڑور امریکی ڈالر کہاں گئے؟

79 سالہ سیپ بلیٹر پر حالیہ پابندی لگنے کے بعد فٹ بال کی عالمی تنظمیم میں ان کا طویل دور ختم ہوگیا ہے۔

وہ 1998 سے فیفا کے صدر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ تاہم وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ فروری میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

دوسری جانب 60 سالہ پلاٹینی کے بارے میں امکان تھا کہ وہ بلیٹر کی جگہ لیں گے۔ انھوں نے تین بار یورپین فٹ بالر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا تھا اور وہ فرانس کی ٹیم کے کپتان کے فرائض انجام دیے اور 2007 میں یوئیفا کا چارج سنبھالا تھا۔

دونوں افراد پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

بلیٹر کو 40 ہزار امریکی ڈالر بطور جرمانہ ادا کرنے ہوں گے جبکہ پلاٹینی پر 80 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

پابندی لگی کیوں؟

بلیٹر اور پلاٹینی پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر رقم لے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔

تاہم دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ رقم سنہ 1998 سے سنہ 2002 کے درمیان کام کے ایک معاہدے میں واجب الادا تھی اور اس وقت پلاٹینی بلیٹر کے تکنیکی معاون کے طور پر کام کرتے تھے۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ رقم پلاٹینی سے کیے جانے والے تحریری معاہدے کا حصہ نہیں تھی بلکہ بلیٹر اور پلاٹینی کا اصرار ہے کہ یہ زبانی معاہدہ تھا جو کہ سوئس قانون کے تحت جائز ہے۔

خیال رہے کہ جرمن جج دو ہفتوں تک ہانس جوآکم جو کہ فیفا کے ججز کے چیمبر کے سربراہ ہیں گذشتہ دو ہفتوں سے اس کیس کی سماعت کر رہے تھے۔

عدالت میں پیش کی جانے والی تفتیشی رپورٹ 50 صفحات پر مشتمل ہے جس میں بلیٹر اور پلاٹینی پر مفادات کے تصادم، غلط لین دین اور تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اسی بارے میں