’سپر لیگ پاکستانی کرکٹ کے لیے جیت ہی جیت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر یار خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اچھا خاصا معاوضہ ملے گا

پاکستان سپر لیگ میں شامل پانچ ٹیموں کے کھلاڑیوں کا انتخاب مکمل ہو گیا ہے اور اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کا کہنا ہے کہ پانچوں ٹیمیں متوازن ہیں اور اس لیگ میں ہونے والے مقابلے دلچسپ ہوں گے۔

’کراچی نے ٹیم نہیں بنائی، مذاق کیا ہے‘

کس کھلاڑی کی کتنی قیمت؟

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کے بارے میں کسی قسم کے نقص یا خامیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار انتہائی مناسب تھا اور کھلاڑیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔

سابق کھلاڑی اور کرکٹ کے تجزیہ کار رمیز راجہ نے کھلاڑیوں کی بولی لگانے کے بجائے ’ڈرافٹنگ‘ کے طریقہ کار پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ متوازن ٹیموں کے انتخاب میں یہ طریقہ کار انتہائی مناسب تھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار انڈین پریمیئر لیگ میں کھلاڑیوں کی بولی لگانے سے مختلف ہے اور اس سے پورے سلسلے کو قابو میں رکھنا آسان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی فرنچائز یا ٹیموں کے خریدار بھی ناتجربہ کار ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ تجریہ اور اعتماد حاصل ہو جائے گا جس کے بعد بولی کا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

بولی کے طریقہ کار پر رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ جس فرنچائز کے پاس زیادہ پیسہ ہے وہ تمام اچھے کھلاڑی خرید لے اور باقی ٹیمیں کمزور رہ جائیں۔

کھلاڑیوں کو ملنے والے معاوضے کے بارے میں شہر یار خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اچھا خاصا معاوضہ ملے گا جو ایک سال کے لیے ہو گا اور آئندہ سال دوبارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہو گا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو اس میں موقع نہیں ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی جن میں سرفراز، عماد وسیم اور رضوان شامل ہیں ان کو ٹیموں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

اس لیگ میں شامل ایک ٹیم کی ملکیت ایک ٹی چینل کے مالک کے پاس ہونے کے حوالے سے ایک سوال پر سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے مالک نے کہا ہے کہ وہ تمام ٹیموں کو اپنی نشریات میں یکساں وقت دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رمیز راجہ نے کہا یہ ٹورنامنٹ بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان واپس لانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے

انھوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد باقی ادارے بھی اپنے آپ کو کسی نہ کسی ٹیم سے وابستہ کریں گے اور یہ ٹورنامنٹ کے لیے بہت مفید ثابت ہو گا۔

رمیز راجہ کا اس ٹورنامنٹ کا ملک سے باہر ہونے کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو ایک بہتر ماحول اور صحت مند ماحول میں کرکٹ کھیلنے کو ملے گی جس سے ان کو تجربہ اور اعتماد حاصل ہو گا۔ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے بین الاقوامی کھلاڑیوں اور فرنچائز کے درمیان روابط مستحکم ہوں گے اور یہ روابط ہی انھیں آگے چل کر پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ ٹورنامنٹ بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان واپس لانے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

رمیز راجہ نے کہا پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کرکٹ کے لیے ’وِن وِن‘ یا جیت ہی جیت کی صورت حال ہے۔

اسی بارے میں