پاکستانی کرکٹرز پر ڈوپنگ کی گرفت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاسر شاہ کے ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے پر ابھی پابندی ہے

یاسر شاہ پاکستان کے پانچویں انٹرنیشنل کرکٹر ہیں جو ممنوعہ دوا استعمال کرنے پر معطلی کی زد میں آئے ہیں۔

ان سے قبل شعیب اختر، محمد آصف، عبدالرحمن اور رضا حسن ڈوپنگ میں پکڑے جا چکے ہیں۔

شعیب اختر اور محمد آصف پر ممنوعہ قوت بخش دوا استمعال کرنے پر پابندی نومبر 2006 ء میں عائد کی گئی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل 19 کرکٹرز کے پیشاب کے نمونے ملائشیا کی لیبارٹری میں تجزیے کے لیے بھیجے تھے جس سے پتہ چلا کہ شعیب اختر اور محمد آصف نے ممنوعہ دوا نینڈرولون کا استعمال کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر دو سالہ پابندی عائد کردی تھی جبکہ محمد آصف پر ایک سال کی پابندی لگائی گئی تاہم صرف ایک ماہ بعد ہی دونوں کرکٹرز کو پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کی تین رکنی کمیٹی نے بری کردیا۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم تھے۔

محمد آصف دوسری مرتبہ ڈوپنگ کی زد میں اس وقت آئے جب 2008 ء میں آئی پی ایل کے دوران ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت پایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption شعیب اختر پر بھی دو سال کی پابندی لگائی گئی تھی جسے ایک ماہ بعد ہی ہٹا لیا گیا تھا

اس مرتبہ بھی انہوں نے ممنوعہ دوا انینڈرولون استعمال کی تھی۔

محمد آصف اسی دوران دبئی ائرپورٹ پر اس وقت حراست میں لے لیے گئے تھے جب ان کے بٹوے سے افیون برآمد ہوئی تھی۔

اگست 2012ء میں لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمن کا ڈوپ ٹیسٹ کاؤنٹی کرکٹ کے دوران مثبت پایا گیا۔ انھوں نے چرس کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں ان پر تین ماہ کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

مئی 2015 ء میں لیفٹ آرم سپنر رضا حسن پر ممنوعہ دوا استعمال کرنے کی پاداش میں دو سال کی پابندی عائد کی گئی۔

یہ دوا انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال کی تھی۔

رضا حسن ایک ون ڈے انٹرنیشنل اور دس ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

ان چار انٹرنیشنل کرکٹرز کے علاوہ پاکستان کے ڈومیسٹک سیزن میں کاشف صدیق اور عمید آصف پر بھی ممنوعہ قوت بخش ادویات استعمال کرنے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں