تنقید کا جواب وکٹیں لے کر دوں گا: محمد عامر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر پابندی ختم ہونے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ اور بنگلہ دیشی پریمیئر لیگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں

سپاٹ فکسسنگ میں ملوث سزا یافتہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب وکٹوں اور پیار کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے انٹرویو میں محمد عامر کا کہنا تھا کہ ’میں پر اعتماد ہوں کہ زیادہ تر چاہنے والے میرے ساتھ ہیں۔مجھے یقین ہے کہ میرے چاہنے والے مجھے پیار کریں گے۔‘

’محمد عامر دوسرے چانس کے مستحق ہیں‘

محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی، ویزے کا انتظار

محمد عامر کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے سخت جملوں یا طعنوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے تو میں اس کے لیے تیار ہوں اور ان کا جواب میں پیار اور وکٹیں لے کر دوں گا۔‘

جمعے کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے پاکستانی سلیکٹروں نے 23 سالہ نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر کو ون ڈے اور ٹی 20 سکواڈ میں شامل کیا ہے۔ تاہم ان کی شمولیت نیوزی لینڈ کا ویزا ملنے کے ساتھ مشروط ہے۔

چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محمد عامر کی سلیکشن کا انحصار انھیں نیوزی لینڈ کا ویزا ملنے پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کی طرف سے ان پر پابندی اٹھ چکی ہے اور انھیں ان کی حالیہ کارکردگی کی وجہ ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ ’میں ماضی میں نیوزی لینڈ کا دورہ کر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ کھیل سے پیار کرتے ہیں اور خیال رکھتے ہیں۔ مجھے ان کی جانب سے کسی ناگوار واقع کی توقع نہیں ہے وہ مجھے پسند کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں شکر گزار ہوں کہ مجھے کرکٹ میں دوسری اننگز کھیلنے کا موقع دیا گیا ہے۔ دوسرا موقع حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے یہ میرے ملک، حکام اور چاہنے والوں کی طرف سے مجھے دوسرا موقع دیا جانا بہت بڑی بات ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر پابندی سے قبل 14 ٹیسٹ میچوں میں 51 حاصل کر چکے ہیں

انھوں نے بتایا کہ ’جب پابندی ختم ہوئی تو میں نے کلب کرکٹ کھیلنا شروع کی آپ تصور کریں ایک کھلاڑی جو لارڈز میں کھیل چکا ہو وہ ایک ایسی کلب ٹیم کے خلاف کھیل رہے تھے جن کے پاس مناسب کٹ تک موجود نہیں تھی۔‘

’تین میں سے ایک سٹمپ ٹوٹی ہوئی تھی اور ہم تین سو روپے کی گیند سے کھیل رہے تھے لیکن ان میچوں سے مجھے برا وقت بھلانے میں مدد ملی۔

محمد عامر کی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں پانچ سالہ پابندی کے خاتمے کے چار ماہ سے بھی کم عرصے میں واپسی ہوئی ہے۔ تاہم ان کی واپسی پر ٹیم کے بعض کھلاڑی کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہی پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی اور سینیئر کھلاڑی محمد حفیظ نے محمد عامر کی قومی ٹیم کے لیے لگائے گئے تربیتی کیمپ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کیمپ میں شمولیت سے انکار کیا تھا۔

تاہم دونوں کھلاڑی پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کے بعد اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں اور ٹیم کا حصہ ہیں۔

15 جنوری سے شروع ہونے والے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران پاکستان ٹیم تین ایک روزہ اور تین ٹی 20 میچ کھیلی گی۔

محمد عامر پابندی سے قبل 14 ٹیسٹ میچوں میں 51، 15 ایک روزہ میچوں میں 25 اور 18 ٹی 20 میچوں میں 23 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں