ہمالیہ کی چوٹی کی جانب گامزن ملنگ دریا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ملنگ دریا افغانستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اور مہم جو ہیں۔ انھوں نے اپنا بچپن کٹھن حالات میں گزارا تاہم اپنے نام کی طرح وہ دھن کے پکے ہیں اور ملک میں کشیدہ حالات اور مالی طور پر غیرمستحکم ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔

انھیں افغانستان کی بلند ترین چوٹی سر کرنے والے پہلے افغان شہری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اسلام آباد میں انھوں نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’میں ایک سفری دستاویزی فلم سیریز 'واکنگ دی ہمالیاز' کا حصہ ہوں۔ یہ فلم کوہ ہمالیہ سے متعلق ہے۔‘

’ہمالیہ پہاڑوں کا سلسلہ افغانستان سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ یہ فلم تیار ہوچکی ہے اور اب مجھے یہ فلم دکھانے کے لیے لندن بلایا جارہا ہے۔ افغانستان میں ویزا کے حصول کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے لہذا مجھ سے کہا گیا کہ میں اسلام آباد آکر ویزا حاصل کروں اسی لیے میں یہاں آیا ہوں۔‘

یہ دستاویزی فلم کوہ ہمالیہ کے برف پوش پہاڑی سلسلے میں مہم جوئی کی کہانی بیان کرتی ہے اور یہ معروف مہم جو اور صحافی لیوسن ووڈ کی تخلیق ہے۔

اس فلم میں ملنگ دریا نے بطور گائیڈ کردار نبھایا ہے اوران کے ساتھ چند افراد اس علاقے میں ٹریکنگ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 42 سالہ ملنگ دریا کا تعلق افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان کے علاقے نوشک سے ہے

اس فلم کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ سیاح افغانستان اور پاکستان دونوں اطراف دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ فلم ان جگہوں کے بارے میں ہے جہاں سیاحوں کا جانا ممنوع ہے۔ اس فلم کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں سیاحوں کے لیے راستے کھول دیتی ہیں تو سیاحوں کے لیے آسانی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاح دونوں جانب کی خوبصورت سرزمین ٹریکنگ کرتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں جو فی الحال ان کی پہنچ میں نہیں ہیں۔ یہ فلم ان لوگوں کو یہ جگہیں دکھانے کے لیے بنائی گئی ہے جو ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکتے۔

42 سالہ ملنگ دریا کا تعلق افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان کے علاقے نوشک سے ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا بھی کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’بچپن میں میرے والد کا انتقال ہوگیا اور میں اپنے والدہ کے پاس رہا۔ میں کبھی سکول نہیں جا سکا، کبھی تعلیم نہیں حاصل کی، 16 برس کی عمر میں میں ایک چرواہا تھا، اس کے بعد میں نے کھیتی باڑی کی اور سنہ 2003 کے بعد میں سیاحوں کے ساتھ پورٹر کا کام کیا، جس سے میری زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔‘

خطے میں سیاحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’میرے لندن میں ایک کمپنی کے ساتھ روابط ہیں جنھوں نے مجھے بتایا ہے کہ نیپال دنیا کی غریب ترین قوم ہے لیکن سیاحت کے آغاز کی وجہ سے ہرسال 2 کروڑ 20 لاکھ سیاح وہاں جاتے ہیں اور اب وہاں سے امیر سے امیرتر لوگ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملنگ دریا کے مطابق سنہ 2003 میں فرانس، اٹلی سلووینیا سے کوہ پیماؤں نے دوبارہ افغانستان آنا شروع کیا

ملنگ دریا کہتے ہیں کہ افغانستان میں جنگ سے پہلے بہت سارے لوگ واخان کے علاقے میں آتے تھے اور وہ سوچتے تھے کہ یہ یہاں کیوں آتے ہیں۔ بعد میں انھیں سمجھ آئی کہ لوگ یہاں ٹریکنگ کرنے، کچھ کوہ پیمائی کرنے آتے ہیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنے ملک کا جھنڈا لہراتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’یہ میرے لیے خواب جیسا ہے کہ مجھے بھی ایسا کرنے کا موقع ملا ہے۔‘

ملنگ دریا کے مطابق سنہ 2003 میں فرانس، اٹلی سلووینیا سے کوہ پیماؤں نے دوبارہ افغانستان آنا شروع کیا۔

ملنگ دریا کے خیال میں افغانستان میں کوہ پیمائی کے حوالے سے تھوڑی بہت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ اگر حالات بہتری کی جانب جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ سیاح اس خوبصورت سرزمین پر آئیں گے۔

افغانستان میں کوہ پیمائی اور مہم جوئی کا ذکر کرتے ہوئے ملنگ دریا کا مزید کہنا تھا کہ ’اب کابل میں ماؤنٹینرنگ فیڈریشن سکول قائم کیا گیا ہے۔ اس سکول میں 16 لڑکیوں نے تربیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے اور امریکہ سے بھی افغان لڑکیوں کو کوہ پیمائی کی تربیت دینے کے لیے ماہر کو بھیجا گیا ہے۔‘

ملنگ دریا نے بتایا کہ آئندہ گرمیوں میں اگر حالات بہتر ہوئے تو افغان لڑکیاں افغانستان کے بلند ترین برفیلے پہاڑوں کو سر کرنے کی کوشش کریں گی۔

افغانستان اور پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ملنگ دریا کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں افغانستان اور پاکستان بھائیوں کی طرح ہیں اور اگر یہ دونوں مزید قریب آتے ہیں اور مزید سیاحت کے لیے راہیں کھولتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے اچھا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کے ٹو سر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ’میں افغانستان کی سب سے بلند چوٹی سر کر چکا ہوں، اور اگر ممکن ہوسکا تو میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ سر بھی سر کروں گا۔‘

افغانستان کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ نوشک جس کی بلندی 7,492 میٹر ہے کو سر کرنے کے حوالے سے وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’ہم نے یکم جولائی 2009 کو کوہ پیمائی کا آغاز کیا جس میں ہمارے ساتھ چار فرانسیسی اور چار افغان تھے لیکن ہم چوٹی کی بلندی تک دو افغان اور ایک فرانسیسی فرد ہی پہنچ سکے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ چوٹی سر کرنے سے قبل انھیں صرف ان کے علاقے کے لوگ جانتے تھے لیکن جب وہ چوٹی سر کر کے آئے تو افغانستان کے تمام لوگ انھیں جانتے ہیں اور اب دنیا بھر میں ان کے رابطے ہیں۔

اسی بارے میں