ہاشم آملہ کی سنچری، جنوبی افریقہ کی مزاحمت جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنی اس اننگز کے دوران ہاشم آملہ نے سات ہزار رنز مکمل کیے اور اپنی 24 ویں سنچری سکور کی

کیپ ٹاؤن میں سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر انگلینڈ کے 629 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ نے کپتان ہاشم آملہ کی سنچری کی بدولت اپنی پہلی اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 353 رنز بنا لیے ہیں۔

تیسرے دن جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز سے آگے محتاط انداز میں کھیلنا شروع کیا۔ انگلینڈ کو صرف اے بی ڈی ولیئرز کی وکٹ ہی ہاتھ لگی۔ انھوں نے 88 رنز بنائے۔

اپنی رواں اننگز کے دوران ہاشم آملہ نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے سات ہزار رنز مکمل کیے جبکہ اسی دوران ڈی ولیئرز نے اپنے آٹھ ہزار رنز مکمل کیے۔

کھیل کے اختتام پر ہاشم آملہ 157 رنز اور فاف ڈوپلیسی 51 رنز بناکر کھیل رہے تھے جبکہ ابھی بھی انگلینڈ کو 276 رنز کی برتری حاصل ہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

ڈربن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو شکست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بین سٹوکس اور جونی بیرسٹو کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے 399 رنز کی شراکت ہوئی

ہاشم آملہ کے لیے گذشتہ سال اچھا نہیں رہا تھا لیکن انھوں نے سال کا آغاز عمدہ بلے بازی سے کیا ہے انھوں نے ڈی ولیئرز کے ساتھ 183 رنز کی شراکت کی۔ یہ ان کی 24 ویں سنچری ہے۔

اس سے قبل چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز چھ وکٹوں کے نقصان پر 629 رنز بنا کر ڈیکلیئر کی۔

سٹوکس کی ڈبل سنچری اور جونی بیرسٹو کی سنچری کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم یہ بڑا سکور کرنے میں کامیاب رہی۔

بین سٹوکس اور جونی بیرسٹو نے اتوار کو اننگز پانچ وکٹوں کے نقصان پر 317 رنز سے شروع کی اور جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے سکور میں مزید 305 رنز کا اضافہ کر ڈالا۔

سٹوکس اور بیرسٹو نے فی اوور سات رنز سے زیادہ کی اوسط سے سکور کیا۔

ان دونوں کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 399 رنز کی شراکت ہوئی جو اس وکٹ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی شراکت ہے۔

اس دوران سٹوکس انگلینڈ کی جانب سے تیز ترین اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین ڈبل سچنری بنانے کا اعزاز نیوزی لینڈ کے ناتھن ایسٹل کے پاس ہے جنھوں نے انگلینڈ کے خلاف 153 گیندوں پر ڈبل سنچری مکمل کی تھی۔

سٹوکس نے 163 گیندوں پر ڈبل سنچری بنائی اور 11 چھکوں اور 30 چوکوں کی مدد سے 198 گیندوں پر 258 رنز کی اننگز کھیل کر رن آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہاشم آملہ نصف سنچری بنانے کے بعد جنوبی افریقی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش میں مصروف رہے

یہ چھٹے نمبر پر بلے بازی کے لیے آنے والے کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر کی جانب سے سب سے بڑا سکور ہے اور سٹوکس سب سے کم گیندوں پر 250 رنز بنانے کا ریکارڈ بنانے میں بھی کامیاب رہے۔

سٹوکس کا ساتھ دینے والے جونی بیرسٹو نے 18 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 150 رنز بنائے۔ ان کے 150 رنز مکمل ہوتے ہی کپتان کک نے اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

اس سے قبل ڈربن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے جنوبی افریقہ کو 241 رنز سے شکست دی تھی۔

اسی بارے میں