’معاملہ تاحیات پابندی والا ہے دوسرے چانس کا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے بارے میں میڈیا کو بریکنگ نیوز اور اپنی ریٹنگ چاہیے: راشد لطیف

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کی واپسی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی غلطی قرار دیا ہے جس نے ان کرکٹرز کے لیے دروازہ کھلا رکھا۔

راشد لطیف کا بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا یہ دعویٰ کہاں گیا کہ وہ کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے؟‘

محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزا مل گیا

تنقید کا جواب وکٹیں لے کر دوں گا: محمد عامر

محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی، ویزے کا انتظار

’محمد عامر دوسرے چانس کے مستحق ہیں‘

راشد لطیف نے کہا کہ جب ایک کرکٹر اپنی زبان سے جرم کا اعتراف کرلیتا ہے تو پھر یہ سیدھا سادہ تاحیات پابندی والا معاملہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں ان دلائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ محمد عامر نے سزا کاٹ لی ہے یا وہ دوسرے موقع کے حقدار ہیں۔

راشد لطیف نے کہا کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کے نام جو لاکھوں پاؤنڈ خرچ کر رہی ہے اس کا فائدہ کیا ہوا؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرم کرو پھر اعتراف کر لو اور انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آجاؤ۔ آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کوچاہیے کہ وہ اپنے ضابطۂ اخلاق ختم کردیں۔

راشد لطیف نے کہا کہ اگر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ کسی کو بھی زندگی بھر اس کے ذریعہ معاش سے محروم نہیں کیا جاسکتا تو پھر ثبوت سامنے لائے بغیر دانش کنیریا پر کیوں زندگی بھر کے لیے پابندی عائد کردی گئی؟ ان پر کیوں دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ پہلے وہ اپنا جرم تسلیم کرلیں پھر بات ہوگی؟

سابق کپتان نے کہا کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے بارے میں میڈیا کو بریکنگ نیوز اور اپنی ریٹنگ چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اظہر علی اور محمد حفیظ نے جب محمد عامر کی کیمپ میں موجودگی پر اپنا موقف پیش کیا تو ایک لمحے کے لیے سب ہل کر رہ گئے تھے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مسئلے کی نزاکت سمجھنے کی بجائے محمد عامر کا موازنہ ان دونوں کرکٹرز سے کیا گیا۔ درحقیقت اس معاشرے میں اب کوئی سچ سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے اور کرپشن کا جنون پاکستانی کرکٹ کو دیمک کی طرح کھائے جا رہا ہے۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پاکستان کی جو شرٹ حنیف محمد، ظہیر عباس، عمران خان، جاوید میانداد اور دوسرے عظیم کرکٹرز نے پہنی اب وہی شرٹ وہ کرکٹرز بھی پہنیں گے جنھوں نے چند پیسوں کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کیا۔

اسی بارے میں