ولیئمسن اورگپٹل کا عالمی ریکارڈ، سیریز بھی برابر کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیوزی لینڈ کی یہ جیت ٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے بڑا ہدف عبور کرتے ہوئے دس وکٹوں کی سب سے بڑی جیت بھی ہے

نیوزی لینڈ کو پہلے میچ کی شکست کا حساب بے باق کرنے میں دیر نہیں لگی اور دوسرا میچ دس وکٹوں سے جیت کر اس نے تین میچوں کی ٹی20 سیریز برابر کردی۔

پاکستانی ٹیم نے کم و بیش پہلے میچ والا سکور کیا لیکن عصر حاضر کے دو بہترین بیٹسمین کین ولیئمسن اور مارٹن گپٹل اپنی بے رحمانہ بیٹنگ سے پاکستانی بولنگ پر ایسے حاوی ہوئے کہ 171 رنز بغیر کسی نقصان کے 18ویں اوور میں بنا ڈالے۔

نیوزی لینڈ نے پاکستان کو دس وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: تصاویر

دونوں کی شراکت میں بننے والے 171 رنز ٹی20 انٹرنیشنل کی تاریخ میں کسی بھی وکٹ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے سمتھ اور بوزمین نے انگلینڈ کے خلاف پہلی وکٹ کی شراکت میں170 رنز بنائے تھے۔

نیوزی لینڈ کی یہ جیت ٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے بڑا ہدف عبور کرتے ہوئے دس وکٹوں کی سب سے بڑی جیت بھی ہے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ نےسنہ 2007 میں پاکستان کے خلاف 130 رنز کا ہدف عبور کرتے ہوئے دس وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پاکستان ٹیم کو ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی مہنگی پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمراکمل نے صرف 22 گیندوں پر نصف سنچری سکور کی

پہلے میچ کے ٹاپ سکورر محمد حفیظ 19 رنز بناسکے لیکن سب سے تشویش کی بات احمد شہزاد اور صہیب مقصود کا مسلسل ناکامی سے دوچار ہونا ہے۔

احمد شہزاد نے تقریباً دو سال پہلے ورلڈ ٹی 20 میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری کو اپنے ناقدین کے لیے بھرپور جواب سے تعبیر کیا تھا لیکن اس کے بعد سے کچھ نہ کر کے انھوں نے اپنے مخالفین کو خود دعوت دے رکھی ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سنچری کے بعد سے 14 اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

صہیب مقصود اب تک 18 ٹی 20 انٹرنیشنل کھیل کر ایک بھی نصف سنچری سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد عمراکمل اور شعیب ملک نے حالات بہتر کرنے کی کوشش کی۔

عمراکمل نے صرف 22 گیندوں پر نصف سنچری سکور کی۔ وہ چار چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 56 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

انھوں نے 39 رنز بنانے والے شعیب ملک کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 63 رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آفریدی، عماد وسیم اور شعیب ملک کا سہ رکنی سپن اٹیک بھی گپٹل اور ولیم سن کو قابو نہ کرسکا

شاہد آفریدی نے ایک چھکے کے بعد ہی واپسی اختیار کی تو تماشائیوں کا طوفان بھی تھم گیا لیکن یہ طوفان نیوزی لینڈ کی اننگز میں سب کا منتظر تھا۔

ولیئمسن اورگپٹل نے پاکستان کی تجربہ کار بولنگ کو کٹھ پتلی تماشہ بنا دیا۔

گپٹل نے چار چھکوں اورنو چوکوں کی مدد سے87 رنز بنائے۔ولیئمسن کے72 رنز کی اننگز میں 11 چوکے شامل تھے۔

پانچ سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنے والے محمد عامر کو اپنے دوسرے ہی میچ میں تبدیل شدہ کرکٹ کا اندازہ ہوگیا۔ انھوں نے تین اوورز میں 34 رنز دے ڈالے۔

وہاب ریاض کے تین اوورز میں 30 اور عمرگل کے دو اوورز میں نو رنز بنے۔

آفریدی، عماد وسیم اور شعیب ملک کا سہ رکنی سپن اٹیک بھی گپٹل اور ولیم سن کو قابو نہ کرسکا۔

اسی بارے میں