اعلیٰ سطح کی ٹینس میں میچ فکسنگ عام نہیں: جوکووچ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دس مرتبہ کے چیمپیئن جوکووچ کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں‘

ٹینس کے مقابلے آسٹریلین اوپن کے آغاز پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سٹار کھلاڑی نوواک جوکووچ کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ اعلیٰ سطح کی ٹینس میں بہت عام نہیں ہے۔

عالمی نمبر ایک کھلاڑی جوکووچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے کریئر کے آغاز میں میچ ہارنے کے لیے ایک لاکھ دس ہزار پاؤنڈز کی رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بڑے کھلاڑیوں میں میچ فکسنگ کے ’حقیقی شواہد موجود نہیں ہیں۔‘

ومبلڈن سمیت ٹینس کے عالمی مقابلوں میں مبینہ میچ فکسنگ

ٹینس کے دس مرتبہ گرینڈ سلیم چیمپیئن رہنے والے سربیا کے کھلاڑی کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں۔‘

اس سے قبل بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق ٹینس کے کھیل میں ومبلڈن سمیت بڑے عالمی مقابلوں میں اعلیٰ ترین سطح پر مبینہ میچ فکسنگ کے ثبوت موجود ہیں۔

بی بی سی اور بز فیڈ نے ان فائلوں کو دیکھا ہے جن کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں عالمی درجہ بندی میں ابتدائی 50 مقامات پر موجود کھلاڑیوں میں سے 16 کے خلاف یہ شکایات درج کی گئیں کہ ان پر شک ہے کہ وہ جان بوجھ کر میچ ہارے۔

ان کھلاڑیوں میں سے کچھ گرینڈ سلیم مقابلوں کے فاتح بھی رہ چکے ہیں اور آٹھ ایسے ہیں جو پیر سے شروع ہونے والے آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں بھی شریک ہیں۔

یہ شکایات عالمی ٹینس کے ’انٹیگرٹی یونٹ‘ کے پاس درج کروائی گئیں جس کا کام کھیل میں بدعنوانی پر نظر رکھنا ہے۔ تاہم شکایات کے باوجود ان تمام کھلاڑیوں کو عالمی مقابلوں میں شرکت کرنے کی اجازت دی جاتی رہی۔

بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کو فراہم کی جانے والی دستاویزات میں عالمی ٹینس کی تنظیم ایسوسی ایشن آف ٹینس پروفیشنلز کی جانب سے 2007 میں شروع کی گئی تحقیقات کی رپورٹ بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بی بی سی اور بز فيڈ نیوز کو ملنے والی دستاویزات میں روس، شمالی اٹلی اور سسلي میں سٹے باز گروہ کی موجودگی سامنے آئی

کمیٹی کا کام تھا کہ وہ نکولے ڈیویڈنکو اور مارٹن واسليو آرگوئیلو کے درمیان کھیلے جانے والے میچ میں سٹے بازی کے معاملے کی تحقیقات کرے۔

اگرچہ ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم تحقیقات کا دائرہ دنیائے ٹینس کے بڑے کھلاڑیوں کے سٹے بازوں سے روابط تک پھیلا دیا گیا تھا۔

بی بی سی اور بز فيڈ نیوز کو ملنے والی دستاویزات میں روس، شمالی اٹلی اور سسلي میں سٹے باز گروہ کی موجودگی سامنے آئی اور تفتیش کاروں کو ان میچوں کے بارے میں بھی پتہ چلا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فکس کیے گئے تھے۔

ان میچوں میں سے تین مقابلے ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے بھی تھے۔

جوکووچ نے مزید کہا کہ ’میچ فکسنگ کے بارے میں میری معلومات اور اطلاعات کے مطابق جہاں تک میں جانتا ہوں، اعلیٰ سطح پر تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔‘

’چیلنجر لیول پر شاید ہاں یا شاید نہیں۔ لیکن مجھے اس بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، میں صرف اپنی رائے دے سکتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارہ، حکام اور لوگ موجود ہیں جو روزانہ کی بنیادوں پر ان معاملات کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی روک تھام کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں